چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 125

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۵ چشمه معرفت ۳۰۰۳۰۰۲ ہوتی ہے اور جب کہ محض گوشت سے بھی نطفہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے اولاد پیدا ہوتی ہے تو کیا ہم گمان کر سکتے ہیں؟ کہ مثلاً روح کسی بکری پر بھی پڑتی ہے اور اس کی کھال میں دھنس کر اُس کے گوشت میں رچ جاتی ہے اور پھر بعد اس کے کسی خاص بوٹی میں وہ روح داخل ہوتی ہے اور اُس کے اندر سرایت کر جاتی ہے اور پھر اُس بوٹی کے دوٹکڑے ہو کر 11 ایک ٹکڑا مرد کھا لیتا ہے اور دوسرا ٹکڑا عورت ۔ گو وہ عورت اس مرد سے کتنے ہی فاصلہ پر ہوا اور خواہ وہ گوشت بھی نہ کھاتی ہو۔ اور کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ وہ درندے جو صرف گوشت ہی کھاتے ہیں جیسے شیر ۔ بھیڑیا ۔ چیتا ۔ ان کی پیدائش کی روح بکریوں اور گائیوں وغیرہ حیوانات کی کھال پر بطور شبنم پڑتی ہے اور کیا یہ خیال گزرسکتا ہے؟ کہ پانی کی مچھلیوں کی روح اور دوسرے تمام جاندار جو پانی کے اندر غرق رہتے ہیں اُن کی روح شبنم کی طرح ہو کر پانی میں پڑتی ہے اور سب سے غور کے لائق وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو ہیں نہیں آتیں آتیں ہاتھ زمین کو کھود کر اُس کے عمیق پردہ کے اندر سے نکلتے ہیں اور ایسا ہی وہ نہایت چھوٹے کیڑے جو اس کنوئیں کے پانی سے نکلتے ہیں جو نیا کھودا جاتا ہے اور ایک ایک قطرہ میں ہزار ہا کیڑے ہوتے ہیں کہاں سے اور کس راہ سے یہ شبنمی روح ان کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ پس اگر کوئی شخص مذہبی تعصب سے دیوانہ اور سودائی اور پاگل ہو جائے تو یہ اور بات ہے ورنہ ان تمام مثالوں کی رو سے جو ذ کر ہو چکی ہیں ماننا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ آریوں کا کہ گویا روح آسمان سے شبنم کی طرح ہو کر کسی گھاس پات پر پڑتی ہے بالکل جھوٹا ہے۔ اگر تم مثلاً دودھ کو جو باسی ہوکر سڑنے کو ہے ہاتھ میں لو اور خوب اس دودھ میں نظر لگائے رکھو تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزار ہا کیڑے بن جائیں گے۔ ایسا ہی اگر کوئی دال ماش یا چنے وغیرہ کی جو خوب پکائی جائے جس کے اندر کے کیڑے بھی مر گئے ہوں جب وہ دال باسی ہو جائے اور سر جائے تو اس میں بھی ہزا رہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اب عقلمند کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر کسی مادہ میں جان پڑنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ