چشمہٴ معرفت — Page 113
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۳ چشمه معرفت کہ آفتاب پر تھوکنے سے اُس کی روشنی کم نہیں ہو سکتی۔ یہ تو صحیح بات ہے جس سے انکار (۱۰۵) نہیں ہو سکتا کہ ایک کمزور درجہ پر اور نہایت ضعیف مرتبہ پر اکثر آدمی خواہیں بھی دیکھتے ہیں اور الہام بھی ہوتا ہے مگر وہ خوا ہیں اور وہ الہام کسی راستبازی اور تزکیہ نفس کا نتیجہ نہیں ہوتے اور کوئی فوق العادت امر اُن میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس طرز سے الہام ہوتے ہیں کہ الہام پانے والوں کو ایک لمبے سلسلہ وحی سے جو دعا کے بعد ایک ہی وقت میں سوال کے طور پر ہو عزت دی جائے اور نہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیاں اُن الہاموں کے اندر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ کھلے کھلے طور پر دنیا میں ممتاز کئے جائیں یعنی ایسی پیشگوئیاں جو دعا قبول ہونے کے بعد اہم کاموں میں اُن ملہموں کی قبولیت ظاہر کرنے کے لئے پوری کی گئی ہوں اور اُن پیشگوئیوں کی عظمت اور ہیبت دلوں میں بٹھائی گئی ہو غرض خدا کے قانون قدرت سے اگر کوئی واقف ہے تو صرف وہ لوگ ہیں جو علاوہ ظاہری علوم کے روحانی امور میں کامل حصہ رکھتے ہیں ۔ جس نے اُس عالم میں سے کچھ بھی نہیں دیکھا اُس نے قانون قدرت کا کیا دیکھا؟ ماسوا اس کے مضمون پڑھنے والے کا یہ دعویٰ کہ صرف وید قانون قدرت کے موافق اور دوسری کتابیں قانون قدرت کے مخالف ہیں یہ صرف دعوی ہے اگر وہ در حقیقت وید کو سچا اور قرآن شریف کو خلاف حق اور خلاف قانون قدرت سمجھتا ہے تو اُس کا فرض ہے که ایسی دو فہرستیں پیش کرے جن میں سے ایک میں یہ دکھلاوے کہ وید کی کل تعلیمیں اور کل عقائد قانون قدرت کے موافق ہیں اور دوسری فہرست میں یہ دکھاوے کہ قرآن شریف کی کل تعلیمیں اور کل عقائد یا بعض تعلیمیں اور بعض عقائد قانون قدرت کے مخالف ہیں ۔ ہم تو جا بجا اس رسالہ میں وید کے نمونے ظاہر کرتے آئے ہیں اور اُن سے ایک طالب حق معلوم کر سکتا ہے کہ کہاں تک وید قانون قدرت سے موافقت رکھتا ہے وید کے حامیوں کو