چشمہٴ معرفت — Page 114
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۱۴ چشمه معرفت ۱۰۲ تو مناسب تھا کہ وہ اس بحث میں اپنے تئیں نہ ڈالتے اور چپ ہی رہتے اور خواہ نخواہ اپنے موجودہ وید کی پردہ دری نہ کراتے ۔ جو کچھ وید نے اپنا فلسفہ اور علم طبعی ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے کہ ہندوؤں کے پر میشر کو ایک انسان کا فرزند قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اندر آریوں کا پر میشر کشلیا کا بیٹا ہے۔ اور نیز یہ کہ عناصر اور اجرام سماویہ سب پر میشر ہی ہیں اور نیز وہ تعلیم دیتا ہے کہ ان تمام چیزوں سے مرادیں مانگی جائیں اور نیز یہ تعلیم جو نہایت گندی اور قابل شرم تعلیم ہے یعنی یہ کہ پر میشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے ( سمجھنے والے سمجھ لیں ) ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی پہلے زمانہ میں یہی وید تھا بلکہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ ایک محرف مبدل کتاب ہے کچھ تو باعتبار الفاظ کے اور کچھ باعتبار معنوں کے ۔ اور ہمارے نزدیک ممکن اور اغلب ہے کہ کوئی اصل کتاب خدا تعالی کی طرف سے ہوگی پھر کچھ کم کی گئی ہے اور کچھ زیادہ کی گئی اور صورت بدلائی گئی ہے اور موجودہ وید بلاشبہ ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے جس میں پر میشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے پس جس جگہ ہم وید پر کوئی حملہ کرتے ہیں یا اس کی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اُس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرف مبدل ہے نہ وہ اصل دید کہ جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور ایسا ہی اُس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہو گا مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فرقے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے اور انسانی پاکیزگی کی نسبت جو کچھ وید نے سکھایا ہے اس کا عمدہ نمونہ نیوگ ہے یہ نیوگ کی ہی پاک کارروائیوں میں سے ہے کہ آریہ قوم میں اس بات کا ثبوت ملنا مشکل ہے کہ کون آریہ صاحب اصل باپ کے نطفہ میں سے ہے اور کون آریہ