براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 33

روحانی خزائن جلد ۲۱ ٣٣ نصرة الحق میں طلوع کرتا تھا اور اب وہ ہمیشہ کے لئے پوشیدہ ہے ایسا ہی وہ حقیقی آفتاب جو دلوں کو روشن کرتا ہے ہر روز تازہ بتازہ طلوع کرتا ہے۔ اور اپنی قولی فعلی تجلیات سے انسان کو حصہ بخشتا ہے وہی خدا سچا ہے اور وہی مذہب سچا جو ایسے خدا کے وجود کی بشارت دیتا ہے اور ایسے خدا کو دکھلاتا ہے اُسی زندہ خدا سے نفس پاک ہوتا ہے۔ یہ امید مت رکھو کہ کوئی اور منصوبہ انسانی نفس کو پاک کر سکے جس طرح تاریکی کو صرف روشنی ہی دُور کرتی ہے اسی طرح گناہ کی تاریکی کا علاج فقط وہ تجلیات الہیہ قولی و فعلی ہیں جو معجزانہ رنگ میں پُر زور شعاعوں کے ساتھ خدا کی طرف سے کسی سعید دل پر نازل ہوتی ہیں اور اُس کو دکھا دیتی ہیں کہ خدا ہے اور تمام شکوک کی غلاظت کو دور کر دیتی ہیں اور تسلی اور ۲۳ ہے اطمینان بخشتی ہیں ۔ پس اُس طاقت بالا کی زبر دست کشش سے وہ سعید آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے اس کے سوا جس قدر اور علاج پیش کئے جاتے ہیں سب فضول بناوٹ ہے۔ ہاں کامل طور پر پاک ہونے کے لئے صرف معرفت ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ پُر درد دعاؤں کا سلسلہ جاری رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ خدا تعالی غنی بے نیاز ہے اُس کے فیوض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایسی دعاؤں کی سخت ضرورت ہے جو گر یہ اور بکا اور صدق وصفا اور درد دل سے پُر ہوں۔ تم دیکھتے ہو کہ بچہ شیر خوار اگر چہ اپنی ماں کو خوب شناخت کرتا ہے اور اُس سے محبت بھی رکھتا ہے اور ماں بھی اُس سے محبت رکھتی ہے مگر پھر بھی ماں کا دودھ اتر نے کے لئے شیر خوار بچوں کا رونا بہت کچھ دخل رکھتا ہے۔ ایک طرف بچہ دردناک طور پر بھوک سے روتا ہے اور دوسری طرف اُس کے رونے کا ماں کے دل پر اثر پڑتا ہے اور دودھ اُترتا ہے پس اسی طرح خدائے تعالیٰ کے سامنے ہر ایک طالب کو اپنی گریہ وزاری سے اپنی روحانی بھوک پیاس کا ثبوت دینا چاہیے تا وہ روحانی دودھ اترے اور اسے سیراب کرے۔ غرض پاک و صاف ہونے کیلئے صرف معرفت کافی نہیں بلکہ بچوں کی طرح دردناک