براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 32

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۲ نصرة الحق جاری رہتا ہے کہ ایک طرف وہ مکالمات صحیحہ واضحہ یقینیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں اور امور غیبیہ جن کا علم انسانوں کی طاقت سے باہر ہے اُن پر خدائے کریم وقد مر اپنے صریح کلام کے ذریعہ سے منکشف کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف معجزانہ افعال سے جو اُن اقوال کو بیچ کر کے دکھلاتے ہیں اُن کے یقین کو نُورُ عَلَی نُور کیا جاتا ہے۔ اور جس قدر انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ خدا کی یقینی شناخت کے لئے اس قدر معرفت چاہیے وہ معرفت قولی اور فعلی تجلی سے پوری کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ذرہ کے برابر بھی تاریکی درمیان نہیں رہتی۔ یہ خدا ہے جس کے ان قولی فعلی تجلیات کے بعد جو ہزاروں انعامات اپنے اندر رکھتی ہیں (۲۳) اور نہایت قومی اثر دل پر کرتی ہیں انسان کو سچا اور زندہ ایمان نصیب ہوتا ہے اور ایک سچا اور پاک تعلق خدا سے ہو کر نفسانی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں۔ اور تمام کمزوریاں دور ہو کر آسمانی روشنی کی تیز شعاعوں سے اندرونی تاریکی الوداع ہوتی ہے اور ایک عجیب تبدیلی ظہور میں آتی ہے۔ پس جو مذہب اس خدا کو جس کا ان صفات سے متصف ہونا ثابت ہے پیش نہیں کرتا اور ایمان کو صرف گذشتہ قصوں کہانیوں اور ایسی باتوں تک محدود رکھتا ہے جو دیکھنے اور کہنے میں نہیں آئی ہیں وہ مذہب ہر گز سچاند ہب نہیں ہے۔ اور ایسے فرضی خدا کی پیروی ایسی ہے کہ جیسے ایک مُردہ سے توقع رکھنا کہ وہ زندوں جیسے کام کرے گا۔ ایسے خدا کا ہونا نہ ہونا برابر ہے جو ہمیشه ناز و طور پر اپنے وجود کو آپ ثابت نہیں کرتا گویا وہ ایک بت ہے جو نہ بولتا ہے اور نہ سنتا ہے اور نہ سوال کا جواب دیتا ہے اور نہ اپنی قادرانہ قوت کو ایسے طور پر دکھا سکتا ہے جو ایک پکا وہر یہ بھی اس میں شک نہ کر سکے۔ یا درکھنا چاہیے کہ جیسے ہمیں روشنی بخشنے کے لئے ہر روز تازہ طور پر آفتاب نکلتا ہے اور ہم اس قدر قصہ سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور نہ کچھ تسلی پاسکتے ہیں کہ ہم اندھیرے میں ہوں اور روشنی کا نام ونشان نہ ہو اور یہ کہا جائے کہ آفتاب تو ہے مگر وہ کسی پہلے زمانہ