براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 34

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴ نصرة الحق گریہ وزاری بھی ضروری ہے۔ اور نومیدمت ہو اور یہ خیال مت کرو کہ ہمارا نفس گنا ہوں سے بہت آلودہ ہے ہماری دعائیں کیا چیز ہیں اور کیا اثر رکھتی ہیں کیونکہ انسانی نفس جو در اصل محبت الہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ اگر چہ گناہ کی آگ سے سخت مشتعل ہو جائے پھر بھی اُس میں ایک ایسی قوت تو بہ ہے کہ وہ اس آگ کو بجھا سکتی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ایک پانی کو کیسا ہی آگ سے گرم کیا جائے مگر تا ہم جب آگ پر اس کو ڈالا جائے تو وہ آگ کو بجھا دے گا۔ یہی ایک طریق ہے کہ جب سے خدائے تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی طریق سے اُن کے دل پاک وصاف ہوتے رہے ہیں یعنی بغیر اس کے جو زندہ خدا خودا اپنی تجابی قولی فعلی سے اپنی ہستی اور اپنی طاقت اور اپنی خدائی ظاہر کرے اور اپنا رعب چمکتا ہوا دکھاوے اور کسی طریق سے انسان گناہ سے پاک نہیں ہوسکتا۔ اور معقولی طور پر بھی یہی بات ظاہر و ثابت ہے کہ انسان فقط اسی چیز کی قدر کرتا ہے اور اُسی کا رعب اپنے دل میں جماتا ہے جس کی عظمت اور طاقت بذریعہ معرفت تامہ کے وہ معلوم کر لیتا ہے۔ مثلاً ظاہر ہے کہ انسان اس سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا جس کی نسبت اُس کو یقین ہو کہ اس میں سانپ ہے۔ اور ایسی چیز کو ہرگز نہیں کھاتا جس کو یقین کرتا ہے کہ وہ زہر ہے۔ پھر کیا باعث کہ وہ اس طرح خدائے تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور ہزاروں فسق و فجور گستاخی سے کرتا ہے اور گو پیرانہ سالی تک بھی نوبت پہنچ جائے پھر بھی نہیں ڈرتا۔ اس کا یہی سبب ہے کہ وہ اس حقیقی منتقم کے وجود اور ہستی سے بالکل بے خبر ہے جو گناہ کی سزا دے سکتا ہے۔ افسوس کہ اکثر انسانوں نے بدقسمتی سے اس اصول کی طرف توجہ نہیں کی اور ایسے بے ہودہ طریق گناہ سے پاک ہونے کے لئے اپنے دل سے تراشے ہیں کہ وہ اور بھی گناہ پر گستاخ کرتے ہیں، مثلاً یہ خیال کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیب دئیے جانے پر