براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 310
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم خضر کے کام پر ظاہر شرع کو سراپا اعتراض تھا۔ نبیوں کی تمام شریعتوں میں سے کسی شریعت میں یہ حکم نہیں کہ ایک بے گناہ بچہ کو قتل کر دو۔ پس اگر خضر کو یہ یقین نہ ہوتا کہ یہ وحی خدا کی طرف سے ہے تو وہ کبھی قتل نہ کرتا اور اگر موسیٰ کی ماں کو یقین نہ ہوتا کہ اس کی وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو کبھی اپنے بچہ کو دریا میں نہ ڈالتی ۔ اب ظاہر ہے کہ ایسا الہام کس طرح فخر کے لائق ہو سکتا اور کس طرح اس کے ضرر سے انسان امن میں رہ سکتا ہے جس کی نسبت کبھی تو اس کا یہ خیال ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کبھی یہ خیال ہے کہ شیطان کی طرف سے ہے۔ ایسا الہام تو آفت جان اور آفت ایمان ہے بلکہ ایک بلا ہے جس سے کبھی نہ کبھی وہ ہلاک ہوسکتا ہے ۔ خدا تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ اپنے ان بندوں کو جو تعلقات نفس امارہ سے الگ ہو کر محض اس کے ہو جاتے ہیں اور اُس کی محبت کی آگ سے تمام ماسوا اللہ کو جلا دیتے ہیں وہ اپنے ایسے بندوں کو شیطان کے پنجہ میں گرفتار کرے۔ اور بیچ تو یہ ہے کہ جس طرح روشنی اور تاریکی میں فرق ہے اسی طرح شیطانی وساوس اور خدا تعالی کی پاک وحی میں فرق ہے۔ بعض خشک ملاؤں کو یہاں تک انکار میں غلو ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مکالماتِ الہیہ کا دروازہ ہی بند ہے اور اس بد قسمت اُمت کے یہ نصیب ہی نہیں کہ یہ نعمت حاصل کر کے اپنے ایمان کو کامل کرے اور پھر کشش ایمانی سے اعمال صالح کو بجالا دے۔ ایسے خیالات کا یہ جواب ہے کہ اگر یہ اُمت در حقیقت ایسی ہی بد بخت اور اندھی (۱۳۳) اور شتر الامم ہے تو خدا نے کیوں اس کا نام خیر الامم رکھا بلکہ سچ بات یہ ہے کہ وہی لوگ احمق اور نادان ہیں کہ جو ایسے خیالات رکھتے ہیں ورنہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اس اُمت کو وہ دعا سکھلائی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے۔ ساتھ ہی اُس نے یہ ارادہ بھی فرمایا ہے کہ اس اُمت کو وہ نعمت عطا بھی کرے جو نبیوں کو دی گئی تھی یعنی مکالمہ مخاطبہ الہیہ جو سر چشمہ تمام نعمتوں کا ہے۔ کیا خدا تعالیٰ نے وہ دعا سکھلا کر صرف دھوکا ہی دیا ہے