براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 311

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور ایسی ناکارہ اور ذلیل اُمت میں کیا خیر ہو سکتی ہے جو بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں اور حضرت عیسیٰ کی ماں دونوں عورتیں تھیں اور بقول ہمارے مخالفین کے نبیہ نہیں تھیں تاہم خدا تعالیٰ کے یقینی مکالمات اور مخاطبات ان کو نصیب تھے اور اب اگر اس امت کا ایک شخص اس قدر طہارت نفس میں کامل ہو کہ ابراہیم کا دل پیدا کر لے اور اتنا خدا تعالیٰ کا تابعدار ہو جو تمام نفسانی چولا پھینک دے اور اتنا خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو کہ اپنے وجود سے فنا ہو جائے تب بھی وہ با وجود اس قدر تبدیلی کے موسیٰ کی ماں کی طرح بھی وحی الہی نہیں پا سکتا۔ کیا کوئی عظمند خدا تعالیٰ کی طرف ایسا بخل منسوب کر سکتا ہے۔ اب ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین۔ اصل بات یہ ہے کہ جب ایسے لوگ سراسر دنیا کے کیڑے ہو گئے اور اسلام کا شعار صرف پگڑی اور ڈاڑھی اور ختنہ اور زبان کے چند اقرار اور رسمی نماز روزہ رہ گیا تو خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مسخ کر دیا اور ہزار ہا تاریکی کے پردے آنکھوں کے آگے آگئے اور دل مر گئے اور کوئی زندہ نمونہ روحانی حیات کا اُن کے ہاتھ میں نہ رہا نا چار ان کو مکالمات الہیہ سے انکار کرنا پڑا اور یہ انکار در حقیقت اسلام سے انکار ہے لیکن چونکہ دل مر چکے ہیں اس لئے یہ لوگ محسوس نہیں کرتے کہ ہم کس حالت میں پڑے ہیں۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر یہی حالت ہے تو پھر اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کیا رہا۔ یوں تو برہمو سماج والے بھی خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک کہتے ہیں اور تناسخ کے بھی قائل نہیں اور کوئی شرک نہیں کرتے اور روز جزا وسزا کو بھی مانتے ور کلمہ لا الہ الا اللہ کے (۱۳) اقراری ہیں۔ پھر جب کہ ان تمام باتوں میں برہموشریک ہیں تو ایسی صورت میں کہ مسلمانوں کی ترقیات بھی اسی حد تک ہیں ان میں اور برہموؤں میں کیا فرق ہے۔ پس اگر مذہب اسلام نعوذ باللہ کوئی امتیازی نعمت عطا نہیں کرتا اور انسانی خیالات تک ہی منتہی ہوتا ہے