براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 309
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم لگادی گئی ہے کہ اس نعمت کو پاوے بیشک اس کو وہ نعمت ملے گی۔ لیکن وہ لوگ جو خدا تعالیٰ سے لا پروا ہیں خدا تعالیٰ اُن سے لا پروا ہے۔ خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ یہی تو ایک جڑ ہے معرفت کی اور تمام برکات کا سرچشمہ ہے اگر اس اُمت پر سیہ دروازہ بند ہوتا تو سعادت کے تمام دروازے بند ہوتے مگر مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے اُس قسم کے کلمات مراد نہیں ہیں جن کی نسبت خود ملهم متردد ہو کہ آیا وہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ ایسے بے برکت کلمات جن میں شیطان بھی شریک ہو سکتا ہے شیطانی ہی سمجھنے چاہئیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے روشن اور بابرکت اور لذیذ کلمات شیطان کے کلمات سے مشابہ نہیں ہو سکتے اور جن دلوں میں باعث طہارت کا ملہ شیطان کا کچھ حصہ نہیں رہتا اُن کی وحی میں بھی شیطان کا کچھ حصہ نہیں رہتا اور شیطان انہیں نجس دلوں پر اُترتا ہے جو شیطان کی طرح اپنے اندر نا پا کی رکھتے ہیں۔ پاک نفسوں پر پاک کا کلام نازل ہوتا ہے اور پلید نفسوں پر پلید کا۔ اور اگر ایک انسان اپنے الہام میں متحیر ہے اور نہیں جانتا کہ وہ شیطان کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے۔ ایسے شخص کا الہام اُس کے لئے آفت جان ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ اُس الہام کی بنا پر کسی نیک کو بد قرار دے حالانکہ وہ الہام شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے کہ کسی بد کو نیک قرار دے حالانکہ وہ سراسر شیطانی تعلیم ہو ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک امرکو جوالہام کے ذریعہ سے اس کو معلوم ہوا ہے خدا کا امر سمجھ کر بجالا وے حالانکہ وہ شیطان نے (۱۴۲) حکم دیا ہو ۔ اور اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک حکم شیطان کا حکم سمجھ کر ترک کر دے حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کا حکم ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ بجز ایک قطعی فیصلہ کے یعنی بجز اس امر کے کہ دل اس یقین سے پُر ہو کہ در حقیقت یہ خدا کا حکم ہے اس کے کرنے کے لئے پوری استقامت حاصل نہیں ہو سکتی خصوصاً بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ ظاہر شرع کو اُن پر کچھ اعتراض بھی ہوتا ہے جیسا کہ