براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 268
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ قبل از وقت ہم براہین احمدیہ کی اس پیشگوئی کو متعین نہیں کر سکے کہ کس پہلو پر یہ ظاہر ہوگی۔ اور یہ ایک ایسا امر ہے جس میں تمام انبیاء شریک ہیں مگر میں نے نہ (۱۰۵) براہین احمدیہ میں اور نہ کسی اور کتاب میں اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ پیشگوئی ہے اور کیونکر انکار کر سکتا وہاں تو صاف صفحہ ۵۱۶ براہین احمدیہ میں لکھا ہے ولنجعله ايةً للناس و رحمةً منا کہ ہم پہاڑ کا پھٹ جانا لوگوں کے لئے ایک نشان بنا ئیں گے۔ اور پھر صفحہ ۵۵۷ میں صاف لکھا ہے قوة الرحمن العبيد الله الصمد یعنی پہاڑ کا پھٹ جانا خدا کی قوت سے ہوگا اپنے بندہ کی تائید کے لئے۔ پس اس جگہ بجر کسی شریر خبیث آدمی کے جس کو ایمان اور خدا اور روز جزاء کی کچھ بھی پروانہ ہو کون اس بات کا انکار کر سکتا ہے کہ یہ پیشگوئی ہے اور اس میں ایک نشان کا وعدہ ہے۔ اور جب کہ خدا تعالیٰ نے اس کا نام نشان رکھا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ کسی وقت ہم اس کو لوگوں کے فائدہ کے لئے ظاہر کریں گے تو پھر کس کی مجال ہے کہ وہ کہے کہ یہ نشان نہیں اور یہ پیشگوئی نہیں۔ اور ہمارا یہ اقرار کہ ہم براہین احمدیہ کے زمانہ میں اس پیشگوئی کو کسی پہلو پر متعین نہیں کر سکتے اس سے مخالف کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا کیونکہ نبی کے لئے قبل از وقت ہر ایک پیشگوئی کا متعین کرنا ضروری نہیں اور یہ بحث اسی کتاب میں ہم پہلے بہت کر چکے ہیں ضرورت نہیں کہ ہم بار بار اس کو لکھیں ۔اگر در خانہ کس است حرفے بس است۔ قولہ ۔ ان تینوں فقروں میں کرشن قادیانی نے جھوٹ بولا ہے۔ یعنی ایک فقرہ گذشتہ بالا جس کا جواب ہو چکا ہے اور دوسرے یہ کہنا کہ زلزلہ سے پیچھے بار بار خیال آیا کہ میں نے بڑا گناہ کیا کہ جیسا کہ شائع کرنے کا حق تھا زلزلہ کی پیشگوئی کو شائع نہ کیا۔ اور تیسرے یہ کہنا کہ اگر چہ میں اس وقت جانتا تھا کہ میرا لکھنا دلوں کو ایک واجبی احتیاط کی طرف مصروف نہیں کرے گا تاہم اس غم نے میرے دل کو گھیرا کہ جوخبر مجھ کو خدائے علیم و حکیم سے ملی تھی اُس کی میں نے پورے طور سے اشاعت نہ کی۔ مولوی محمد حسین صاحب نے اس میرے فقرہ پر بہت خوشی سے بغلیں بجائی ہیں کہ مجھے بار بار خیال آیا کہ