براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 267

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ا قول ۔ اس دلیری اور شوخی اور منہ زوری کے مقابل پر ہم بجز اس کے کیا لکھ سکتے ہیں کہ لعنة الله على الكاذبين - بندہ خدا آخر کبھی مرنا ہے۔ کبھی تو اُس گھڑی کا خیال کرو جب جان کندن کا غرغرہ شروع ہو گا۔ کیا یہ دونوں عربی عبارتیں جن کا میں نے اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۶ اور ۵۵۷ میں موجود نہیں ہیں اس قدر جھوٹ اور یہ عمر۔ براہین احمد یہ دنیا میں پھیل چکی ہے صرف آپ کی بغل میں نہیں۔ پھر اس شوخی اور شرارت سے فائدہ کیا۔ کیا یہ سیچ نہیں کہ ان آیتوں میں پہاڑ پھٹ جانے کا ذکر ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اسی الہام میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم پہاڑ کا پھٹ جانا لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے اور بعض کے لئے یہ نشان رحمت کا موجب ہوگا اور کیا یہ سچ نہیں کہ ان الہامات میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشان اپنے بندہ کی تائید اور نصرت کے لئے ظاہر کریں گے؟ اور کیا یہ سچ نہیں کہ جو الہام صفحہ ۵۵۷ براہین احمدیہ میں عربی میں ہے اس کے سر پر اردو میں یہ الہام ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ کیا ان تمام عبارتوں کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے ثابت نہیں ہوتا کہ پہاڑ کا پھٹنا جو براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے اس کے ساتھ ہی کتاب موصوف میں یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ یہ ایک پیشگوئی ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں بعض پیشگوئیاں اسی پیشگوئی کے ہم معنی حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت ہیں جن میں لکھا ہے کہ یہودی ان کو قبول نہیں کریں گے جیسا کہ انجیل میں بھی انہیں پیشگوئیوں کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کو نہ کا سرا ہوا یعنی اسرائیلی نبیوں کا خاتم الانبیاء ہوا۔ سو انہیں پیشگوئیوں کے مطابق یہ پیشگوئی ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ لوگوں نے تو اُس کو قبول نہ کیا مگر میں قبول کروں گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دوں گا ۔ سوضروری ہے کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک یہ تمام باتیں ظہور میں آجائیں۔ اور جیسا کہ انجیل میں ہے کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کو نہ کا سرا ہوا ۔ اسی طرح خدا نے مجھے فرمایا کہ وہ تو تجھے رد کرتے ہیں مگر میں تجھے خاتم الخلفاء بناؤں گا۔ اس بارے میں وحی الہی کئی مختلف عبارتوں میں ہے اگر سب لکھی جائیں تو طول ہو گا۔ منہ