براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 269
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ا قول ۔ بدظنی ایسی چیز ہے کہ اُس کا کوئی علاج نہیں ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر ایک شخص کو اس بات کا علم دیا جائے کہ فلاں تباہی کسی گروہ پر آنے والی ہے اور وہ اس قوم کو اس تباہی سے جیسا کہ چاہے متنبہ نہ کر سکے اور ساتھ ہی اس کو یہ بھی یقین ہو کہ میرا کہنا نہ کہنا ان کو برابر ہو گا مگر پھر بھی اس تباہی کے بعد ضرور اس کے دل کو صدمہ پہنچے گا کہ کاش وہ لوگ میری آواز کو سنتے اور بچ جاتے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ یہ خاصیت ہر ایک دل میں ہے مگر ممکن ہے کہ اس زمانہ کے ۱۰۲ بعض مولویوں کے دل ایسے ہوں کہ خدا نے یہ خاصیت ان میں سے سلب کر لی ہو۔ اور اگر یہ و ہم گذرے کہ کیونکر یقین کریں کہ صاحب الہام کو یقین ہو گیا تھا کہ الہام عفت الديار محلها و مقامها سے مراد زلزلہ ہے۔ اس کا جواب ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ یہ ایک ایسا صاف الہام ہے کہ اس کے معنوں پر اطلاع پانے سے ایک بچہ کو بھی یقین ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سخت حادثہ کی پیشگوئی ہے جس کا اثر عمارتوں پر ہو گا۔ اور اس سے ایک سال پانچ مہینہ پہلے الحکم اخبار میں میں نے بہت بڑا گناہ کیا۔ مولوی کہلا کر ان کو یہ معلوم نہیں کہ انسان کا کمال معرفت اسی میں ہے کہ انسان اپنے رب جلیل کے آگے ہر ایک وقت اپنے تئیں قصور وار ٹھہر اوے یہ نبیوں کی سنت ہے وہ شیطان ہے جو خدا تعالیٰ کے سامنے انکسار اختیار نہ کرے نبی جو روتے چلاتے نعرے مارتے رہے۔ یہ سوز و گداز اسی وجہ سے تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے گناہ کیا کہ جیسا کہ حق تبلیغ کا تھا ہم سے ادا نہ ہو سکا۔ اپنے آقا و مولی کے سامنے تمام سعادت اسی میں ہے کہ اس قصور کا اقرار کریں۔ چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام استغفار اسی بنا پر ہے کہ آپ بہت ہی ڈرتے تھے کہ جو خدمت مجھے سپرد کی گئی ہے یعنی تبلیغ کی خدمت اور خدا کی راہ میں جانفشانی کی خدمت اس کو جیسا کہ اس کا حق تھا میں ادا نہیں کر سکا۔ اور اس خدمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی نے ادا نہیں کیا۔ مگر خوف عظمت اور ہیبت الہی آپ کے دل میں حد سے زیادہ تھا۔ اسی لئے دوام استغفار آپ کا شغل تھا۔ توریت میں بھی ہے "سب موسیٰ نے جلدی سے زمین پر سر جھکایا اور بولا کہ اے خداوند ۔۔۔۔ ہمارے گناہ اور خطائیں معاف کر خروج ۳۴-۹۔ساؤل نبی کہتا ہے۔ میں نے گناہ کیا کہ میں نے خداوند کے فرمان کو ٹال دیا۔ دیکھو اسموئیل ۱۵-۲۵۔ داؤد نبی خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں نے تیرا گناہ کیا۔ دیکھو زبور ۵۱-۴۔ منہ