براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 236

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اُس کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ لغو کاموں اور لغو شغلوں کی محبت پر غالب آجاتا ہے اور ان کو دفع اور دُور کر کے اُن کی جگہ لے لیتا ہے۔ اور تمام بیہودہ شغلوں سے دل کو سرد کر دیتا ہے تب لغو کاموں سے دل کو ایک کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر لغو شغلوں اور لغو کاموں کے دُور ہونے کے بعد ایک تیسری خراب حالت مومن میں باقی رہ جاتی ہے جس سے وہ دوسری حالت کی نسبت بہت محبت رکھتا ہے یعنی طبعا مال کی محبت اس کے دل میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی اور آرام کا مدار مال کو ہی سمجھتا ہے اور نیز اس کے حاصل ہونے کا ذریعہ صرف اپنی محنت اور مشقت خیال کرتا ہے۔ پس اس وجہ سے اس پر خدا تعالیٰ کی راہ میں مال کا چھوڑنا بہت بھاری اور تلخ ہوتا ہے۔ پھر جب عنایت الہیہ اس ورطۂ عظیمہ سے اُس کو نکالنا چاہتی ہے تو رازقیت الہیہ کا علم اس کو عطا کیا جاتا ہے اور توکل کا بیج اُس میں بویا جاتا ہے اور ساتھ اس کے بیت الہیہ بھی کام کرتی ہے اور دونوں تجلیات جمالی اور جلالی اُس کے دل کو اپنے قابو میں لے آتی ہیں۔ تب مال کی محبت بھی دل میں سے بھاگ جاتی ہے اور مال دینے والے کی محبت کا تختم دل میں بویا جاتا ہے اور ایمان قومی کیا جاتا ہے۔ اور یہ قوت ایمانی درجہ سوم کی قوت سے بڑھ کر ہوتی ہے کیونکہ اس جگہ مومن صرف لغو باتوں کو ہی ترک نہیں کرتا بلکہ اس مال کو ترک کرتا ہے جس پر اپنی خوش زندگی کا سارا مدار سمجھتا ہے۔ اور اگر اس کے ایمان کو قوت تو کل عطا نہ کی جاتی اور رازق حقیقی کی طرف آنکھ کا دروازہ نہ کھولا جاتا تو ہر گز ممکن نہ تھا کہ بجل کی بیماری دُور ہوسکتی ۔ پس یہ قوت ایمانی نہ صرف لغو کاموں سے چھڑاتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے رازق ہونے پر ایک قومی ایمان پیدا کر دیتی ہے۔ اور نور تو کل دل میں ڈال دیتی ہے۔ تب مال جو ایک پارہ جگر سمجھا جاتا ہے بہت آسانی اور شرح صدر سے مومن اس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اور وہ ضعف جو بخل کی حالت میں نومیدی سے پیدا ہوتا ہے۔ اب خدا تعالیٰ پر بہت سی امیدیں ہو کر وہ تمام ضعف جاتا رہتا ہے۔ اور مال دینے والے کی محبت مال کی محبت سے زیادہ ہو جاتی ہے۔