براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 237
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم پھر بعد اس کے چوتھی حالت ہے جس سے نفس امارہ بہت ہی پیار کرتا ہے اور جو تیسری حالت سے بدتر ہے کیونکہ تیسری حالت میں تو صرف مال کا اپنے ہاتھ سے چھوڑنا ہے مگر چوتھی حالت میں نفس امارہ کی شہوات محرمہ کو چھوڑنا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مال کا چھوڑنا بہ نسبت شہوات کے چھوڑنے کے انسان پر طبعا سہل ہوتا ہے۔ اس لئے یہ حالت بہ نسبت حالات ۷۷ گذشتہ کے بہت شدید اور خطرناک ہے اور فطرتا انسان کو شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق کے بہت پیارا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مال کو جو اُس کے نزدیک مدار آسائش ہے بڑی خوشی سے شہوات نفسانیہ کی راہ میں فدا کر دیتا ہے۔ اور اس حالت کے خوفناک جوش کی شہادت میں یہ آیت کافی ہے۔ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ ذَا بُرْهَانَ رَبِّهِ یعنی یہ ایسا منہ زور جوش ہے جو اس کا فرو ہونا کسی برہانِ قومی کا محتاج ہے ۔ پس ظاہر ہے کہ درجہ چہارم پر قوت ایمانی بہ نسبت درجہ سوم کے بہت قومی اور زبردست ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت اور جبروت کا مشاہدہ بھی پہلے کی نسبت اُس میں زیادہ ہوتا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ یہ بھی اس میں نہایت ضروری ہے کہ جس لذت ممنوعہ کو دُور کیا گیا ہے اس کے عوض میں روحانی طور پر کوئی لذت بھی حاصل ہو۔ اور جیسا کہ بخل کے دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی رازقیت پر قوی ایمان درکار ہے۔ اور خالی جیب ہونے کی حالت میں ایک قوی تو کل کی ضرورت ہے تا بخل بھی دُور ہو اور غیبی فتوح پر امید بھی پیدا ہو جائے۔ ایسا ہی شہوات نا پاک نفسانیہ کے دُور کرنے کے لئے اور آتش شہوت سے مخلصی پانے کے لئے اس آگ کے وجود پر قوی ایمان ضروری ہے جو جسم اور روح دونوں کو عذاب شدید میں ڈالتی ہے اور نیز ساتھ اس کے اُس رُوحانی لذت کی ضرورت ہے جو ان کثیف لذتوں سے بے نیاز اور مستغنی کر دیتی ہے۔ جو شخص شہوات نفسانیہ محرمہ کے پنجہ میں اسیر ہے وہ ایک اثر ر ہا کے منہ میں ہے جو نہایت خطرناک زہر رکھتا ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ جیسا کہ لغو حرکات کی بیماری سے بخل کی بیماری بڑھ کر ہے اسی طرح بخل کی بیماری کے مقابل پر شہوات نفسانیہ محرمہ کے پنجہ میں اسیر ہونا سب بلا ؤں سے زیادہ يوسف : ۲۵