براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 235

۲۳۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ اس کو اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے اور پھر جب عنایت الہیہ اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرتی ہے تو کسی واقعہ کے پیدا ہونے سے یا کسی آفت کے نازل ہونے سے خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت ۷۵) اور جبروت کا اس کے دل پر اثر پڑتا ہے اور اس اثر سے اُس پر ایک حالت خشوع پیدا ہو جاتی ہے جو اُس کے تکبر اور گردن کشی اور غفلت کی عادت کو کالعدم کر دیتی ہے اور اس سے علاقہ محبت توڑ دیتی ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر وقت دنیا میں مشاہدہ میں آتی رہتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ جب بیت الہی کا تازیانہ کسی خوفناک لباس میں نازل ہوتا ہے تو بڑے بڑے شریروں کی گردن جھکا دیتا ہے اور خواب غفلت سے جگا کر خشوع اور خضوع کی حالت بنا دیتا ہے یہ وہ پہلا مرتبہ رجوع الی اللہ کا ہے جو عظمت اور ہیبت الہی کے مشاہدہ کے بعد یا کسی اور طور سے ایک سعید الفطرت کو حاصل ہو جاتا ہے اور گو وہ پہلے اپنی غافلانہ اور بے قید زندگی سے محبت ہی رکھتا تھا مگر جب مخالف اثر اُس پہلے اثر سے قومی تر پیدا ہوتا ہے تو اس حالت کو بہر حال چھوڑنا پڑتا ہے۔ پھر اس کے بعد دوسری حالت یہ ہے کہ ایسے مومن کو خدا تعالیٰ کی طرف کچھ رجوع تو ہو جاتا ہے مگر اس رجوع کے ساتھ لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو شغلوں کی پلیدی لگی رہتی ہے جس سے وہ انس اور محبت رکھتا ہے۔ ہاں کبھی نماز میں خشوع کے حالات بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں لیکن دوسری طرف لغو حرکات بھی اس کے لازم حال رہتی ہیں اور لغو تعلقات اور لغو مجلسیں اور لفونس ٹھٹھا اس کے گلے کا ہار رہتا ہے۔ گویاوہ دور نگ رکھتا ہے کبھی کچھ کبھی کچھ سے واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چوں بخلوت می روند آن کار دیگر می کنند پھر جب عنایت الہیہ اس کو ضائع کرنا نہیں چاہتی تو پھر ایک اور جلوہ عظمت اور ہیبت اور جبروت الہی کا اُس کے دل پر نازل ہوتا ہے جو پہلے جلوہ سے زیادہ تیز ہوتا ہے اور قوت ایمانی اُس سے تیز ہو جاتی ہے اور ایک آگ کی طرح مومن کے دل پر پڑ کر تمام خیالات لغو اس کے ایک دم میں بھسم کر دیتی ہے۔ اور یہ جلوہ عظمت اور جبروت الہی کا اس قدر حضرت عزت کی محبت