براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 213

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کہ ایک دم بھی یاد الہی سے الگ ہوں ۔ وہ در حقیقت نماز اور یا دالبی کو اپنی ایک ضروری غذا (۵۵) سمجھتے ہیں جس پر ان کی زندگی کا مدار ہے اور یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ اُن سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت ذاتیہ کا ایک افروختہ شعلہ جس کو روحانی وجود کے لئے ایک روح کہنا چاہیے اُن کے دل پر نازل ہوتا ہے اور ان کو حیاتِ ثانی بخش دیتا ہے اور وہ روح ان کے تمام وجود روحانی کو روشنی اور زندگی بخشتی ہے۔ تب وہ نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں بلکہ وہ خدا جس نے جسمانی طور پر انسان کی زندگی روٹی اور پانی پر موقوف رکھی ہے وہ ان کی روحانی زندگی کو جس سے وہ پیار کرتے ہیں اپنی یاد کی غذا سے وابستہ کر دیتا ہے۔ اس لئے وہ اس روٹی اور پانی کو جسمانی روٹی اور پانی سے زیادہ چاہتے ہیں۔ اور اس کے ضائع ہونے سے ڈرتے ہیں اور یہ اس روح کا اثر ہوتا ہے جو ایک شعلہ کی طرح اُن میں ڈالی جاتی ہے۔ جس سے عشق الہی کی کامل مستی اُن میں پیدا ہو جاتی ہے اس لئے وہ یاد الہی سے ایک دم الگ ہونا نہیں چاہتے۔ وہ اس کے لئے دکھ اُٹھاتے اور مصائب دیکھتے ہیں مگر اس سے ایک لحظہ بھی جدا ہونا نہیں چاہتے اور پاس انفاس کرتے ہیں۔ اور اپنی نمازوں کے محافظ اور نگہبان رہتے ہیں۔ اور یہ امر اُن کے لئے طبعی ہے کیونکہ در حقیقت خدا نے اپنی محبت سے بھری ہوئی یاد کو جس کو دوسرے لفظوں میں نماز کہتے ہیں ان کے لئے ایک ضروری غذا مقرر کر دیا ہے اور اپنی محبت ذاتیہ سے اُن پر تجلی فرما کر یا دالہی کی ایک دلکش لذت ان کو عطا کی ہے۔ پس اس وجہ سے یاد الہی جان کی طرح بلکہ جان سے بڑھ کر ان کو عزیز ہوگئی ہے اور خدا کی ذاتی محبت ایک نئی روح ہے جو شعلہ کی طرح ان کے دلوں پر پڑتی اور ان کی نماز اور یاد الہی کو ایک غذا کی طرح ان کے لئے بنا دیتی ہے۔ پس وہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی روٹی اور پانی سے نہیں بلکہ نماز اور یاد الہی سے جیتے ہیں۔ غرض محبت سے بھری ہوئی یاد الہی جس کا نام نماز ہے وہ در حقیقت ان کی غذا ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتے اور جس کی محافظت اور نگہبانی بعینہ اس مسافر کی طرح وہ کرتے