براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 212
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم غرض پنجم مرتبہ وجود روحانی کا گو ایک ناقص مرتبہ حسن تقویٰ کا حاصل کر لیتا ہے مگر کمال اس حسن کا وجود روحانی کے درجہ ششم پر ہی ظاہر ہوتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ کی اپنی محبت ذاتیہ روحانی وجود کے لئے ایک روح کی طرح ہو کر انسان کے دل پر نازل ہوتی اور تمام نقصانوں کا تدارک کرتی ہے اور انسان محض اپنی قوتوں کے ساتھ کبھی کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ روح خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہ ہو۔ جیسا کہ حافظ شیرازی نے فرمایا ہے۔ ما بدان منزل عالی نتوانیم رسید ہاں مگر لطف تو چوں پیش نہد گامے چند پھر درجہ پنجم کے بعد چھٹا درجہ وجود روحانی کا وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ یعنی چھٹے درجہ کے مومن جو پانچویں درجہ سے بڑھ گئے ہیں وہ ہیں جو اپنی نمازوں پر آپ محافظ اور نگہبان ہیں یعنی وہ کسی دوسرے کی تذکیر اور یاد دہانی کے محتاج نہیں رہے بلکہ کچھ ایسا تعلق ان کو خدا سے پیدا ہو گیا ہے اور خدا کی یاد کچھ اس قسم کی محبوب طبع اور مدار آرام اور مدار زندگی ان کے لئے ہوگئی ہے کہ وہ ہر وقت اس کی نگہبانی میں لگے رہتے ہیں اور ہر دم ان کا یاد الہی میں گذرتا ہے اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی خدا کے ذکر سے الگ ہوں۔ اب ظاہر ہے کہ انسان اسی چیز کی محافظت اور نگہبانی میں تمام تر کوشش کر کے ہر دم لگا رہتا ہے جس کے گم ہونے میں اپنی ہلاکت اور تباہی دیکھتا ہے جیسا کہ ایک مسافر جو ایک بیابان بے آب و دانہ میں سفر کر رہا ہے جس کے صدہا کوس تک پانی اور روٹی ملنے کی کوئی امید نہیں وہ اپنے پانی اور روٹی کی جو ساتھ رکھتا ہے بہت محافظت کرتا ہے اور اپنی جان کے برابر اس کو سمجھتا ہے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ضائع ہونے میں اس کی موت ہے۔ پس وہ لوگ جو اُس مسافر کی طرح اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں اور گو مال کا نقصان ہو یا عزت کا نقصان ہو یا نماز کی وجہ سے کوئی ناراض ہو جائے نماز کو نہیں چھوڑتے اور اس کے ضائع ہونے کے اندیشہ میں سخت بے تاب ہوتے اور پیچ و تاب کھاتے گویا مر ہی جاتے ہیں اور نہیں چاہتے ا المؤمنون : ١٠