براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 214

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم رہتے ہیں جو ایک دشت بے آب و دانہ میں اپنی چند روٹیوں کی محافظت کرتا ہے جو اس کے پاس ہیں اور اپنے کسی قدر پانی کو جان کے ساتھ رکھتا ہے جو اس کی مشک میں ہے۔ واہب ب مطلق نے انسان کی روحانی ترقیات کے لئے یہ بھی ایک مرتبہ رکھا ہوا ہے جو محبت ذاتی اور عشق کے غلبہ اور استیلا کا آخری مرتبہ ہے اور در حقیقت اس مرتبہ پر انسان کے لئے محبت سے بھری ہوئی یا دالہی جس کا شرعی اصطلاح میں نماز نام ہے غذا کے قائم مقام ہو جاتی ہے بلکہ وہ بار بار جسمانی روح کو بھی اس غذا پر فدا کرنا چاہتا ہے وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا جیسا کہ مچھلی بغیر پانی کے زندہ نہیں رہ سکتی اور خدا سے علیحدہ ایک دم بھی بسر کرنا اپنی موت سمجھتا ہے۔ اور اس کی روح آستانہ الہی پر ہر وقت سجدہ میں رہتی ہے اور تمام آرام اُس کا خدا ہی میں ہو جاتا ہے اور اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں اگر ایک طرفہ امین بھی یا دالہی سے الگ ہوا تو بس میں مرا۔ اور جس طرح روٹی سے جسم میں تازگی اور آنکھ اور کان وغیرہ اعضاء کی قوتوں میں توانائی آجاتی ہے۔ اسی طرح اس مرتبہ پر یا دالہی جو عشق اور محبت کے جوش سے ہوتی ہے مومن کی روحانی قوتوں کو ترقی دیتی ہے یعنی آنکھ میں قوت کشف نہایت صاف اور لطیف طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور کان خدا تعالیٰ کے کلام کو سُنتے ہیں اور زبان پر وہ کلام نہایت لذیذ اور اجلی اور اصفی طور پر جاری ہو جاتا ہے اور رویاء صادقہ بکثرت ہوتے ہیں تمہیں بہت سے نادان اس وہم میں گرفتار ہیں کہ ہمیں بھی بعض اوقات کچی خواب آ جاتی ہے یا سچا الہام ہو جاتا ہے تو ہم میں اور ایسے اعلیٰ مرتبہ کے لوگوں میں فرق کیا ہوا اور ان عالی مرتبہ لوگوں کی کیا خصوصیت باقی رہی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قدر طاقت خواب دیکھنے یا الہام کی اس غرض سے عام لوگوں کی فطرت میں رکھی گئی ہے کہ تا ان کے پاس بھی ان باریک باتوں کا کسی قدر نمونہ ہو جو اس جہان سے وراء الوراء باتیں ہیں ۔ اور اس طرح پر وہ اپنے پاس ایک نمونہ دیکھ کر دولت قبول سے محروم نہ رہیں اور ان پر اتمام حجت ہو جائے ۔ ورنہ اگر انسانوں کی یہ حالت ہوتی کہ وحی اور ر و یا صادقہ کی حقیقت سے وہ بالکل بے خبر ہوتے تو بجز انکار کے کیا کر سکتے تھے اور اس حالت میں کسی قدر معذور تھے۔ پھر جبکہ باوجود موجود ہونے اس نمونے کے زمانہ حال کے فلسفی اب تک وحی اور رویا صادقہ کا انکار ۵۶