براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 152

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۲ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہوش اڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی راہ کو بھولیں گے ہوکر مست و بے خود راہوار خون سے مردوں کے کوہستان کے آپ رواں سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہو گا تو ہو گا اُس گھڑی باحال زار اک نمونہ قہر کا ہو گا وہ ربانی نشاں آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہ ناشناس اس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارو مدار وحی حق کی بات ہے ہو کر رہے گی بے خطا کچھ دنوں کر صبر ہو کر متقی اور بُردبار یہ گماں مت کر کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف قرض ہے واپس ملے گا تجھے کو یہ سارا اُدھار