براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 151
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۱ براہین احمدیہ حصہ پنجم آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار اک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھا ئیں گے دیہات و شہر اور مرغزار تاریخ امروزه ۱۵ را پریل ۱۹۰۵ء آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یک ایک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھا ئیں گے کہ کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر و زبر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آب رودبار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یاسمن صبح کردے گی انہیں مثلِ درختان چنار خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے۔ اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہو گا جو نمونہ قیامت ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیے جس کی طرف سورة إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ ممکن ہے یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھا دے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں میں کا ذب ٹھہروں گامگر میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ شدید آفت جس کو خدا تعالیٰ نے زلزلہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے صرف اختلاف مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہندو یا عیسائی ہونے کی وجہ سے کسی پر عذاب آ سکتا ہے اور نہ اس وجہ سے آ سکتا ہے کہ کوئی میری بیعت میں داخل نہیں یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں۔ ہاں جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے اور فسق و فجور میں غرق ہو اور زانی ، خونی ، چور، ظالم اور ناحق کے طور پر بداندیش، بد زبان اور بدچلن ہو اس کو اس سے ڈرنا چاہیے اور اگر تو بہ کرے تو اس کو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب ٹل سکتا ہے قطعی نہیں ہے ۔ منہ الزلزال : ٢