براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 153

روحانی خزائن جلد ۲۱ از ۱۵۳ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہر ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اے یار ازل بس است روئے تو مرا بہتر نے ہزار خلد کوئے تو مرا مصلحتے دگر طرف بینم لیک لحظه نگاہ ہست سوئے تو مرا بر عزت من اگر کسے حملہ کند صبر است طریق ہمچو خوئے تو مرا من چیستم و چه عزتم هست مگر جنگ است ز بهر آبروئے تو مرا ایک صاحب محمد اکرام اللہ نام نے روزانہ پیسہ اخبار مورخہ ۲۲ رمئی ۱۹۰۵ء میں میرے ان اشتہارات کی نسبت جن میں اول دفعہ اور دوسم دفعہ کے زلزلہ کی نسبت پیشگوئیاں ہیں کچھ اعتراض شائع کئے ہیں اور میرے خیال میں وہ اعتراضات صرف تعصب کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ نا سمجھی اور نہایت محدود واقفیت بھی ان کا موجب ہے۔ قوم کی حالت پر اسی وجہ سے مجھے رونا آتا ہے کہ اعتراض کرنے کے وقت کچھ دیر نہیں کرتے اور جنون کی طرح ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے یا خود نمائی کی وجہ سے یہ شوق دامن گیر ہوتا ہے کہ کسی طرح معترض بن کر ہمیں بھی اول درجہ کے مخالفوں میں جگہ مل جائے اور یا کم سے کم لائق اور اہل علم متصور ہوں مگر بجائے لائق کہلانے کے خود اپنے ہاتھ سے اپنی پردہ دری کرتے ہیں۔ اب اہل انصاف اعتراضات کو سنیں اور ان کے جوابات پر غور کر کے دیکھیں کہ کیا ایسے اعتراضات کوئی منصف مزاج جس کو کچھ بھی عقل اور دین سے حصہ ملا ہے کر سکتا ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ اول خود دھوکا کھاتے ہیں اور پھر لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اور اس جاہلیت کا سا را باعث وہ جلا ہوا تعصب ہے کہ جو جہنم کی آگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ خلاصه اعتراض اول قولہ ۔ اب ہم مرزا صاحب کے قول سے ثابت کرتے ہیں کہ زلزلہ کی پیشگوئی کوئی قابلِ وقعت چیز نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی کتاب ازالہ اوہام میں خود لکھتے ہیں کہ زلزلہ کی پیشگوئی