براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 91

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۹۱ براہین احمدیہ حصہ پنجم منسوب کیا گیا اور اس کو شہرت دی گئی ہے اس غلط شہرت کو ایک عظیم الشان نشان سے ڈھانک دیا جائے گا۔ نادان لوگ نہیں جانتے کہ کن معنوں سے خدا اپنے مقبول بندوں کی طرف ذنب کو یعنی گناہ کو منسوب کرتا ہے کیونکہ حقیقی گناہ جو نا فرمانی خدا تعالی کی ہے وہ تو قبل از تو بہ قابل سزا ہے نہ یہ کہ خدا تعالیٰ کو خود ہی اس بات کا فکر پڑ جائے کہ میں کوئی ایسا نشان دکھلاؤں کہ تا وہ نکتہ چینی کے خیالات اور عیب جوئی کے تو ہمات خود بخود مخفی اور مستور ہو جائیں اور اُن کا ذکر کرنے والا ذلیل ہو جائے۔ اسی وجہ سے ائمہ اور اہل تصوف لکھتے ہیں کہ جن لغزشوں کا انبیاء علیہم السّلام کی نسبت خدائے تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے جیسا کہ آدم علیہ السلام کا دانہ کھانا۔ اگر تحقیر کی راہ سے ان کا ذکر کیا جائے تو یہ موجب کفر اور سلب ایمان ہے کیونکہ وہ مقبول ہیں اور دنیا جس بات کو ذنب سمجھتی ہے وہ اُس سے محفوظ ہیں اور اُن سے عداوت کرنا خدائے تعالی کے حملہ کا نشانہ بننا ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے ومن عادی وَلِيًّا لي فقد اذنته للحرب يعنى جو شخص میرے ولی کا دشمن ہو تو میں اُس کو متنبہ کرتا ہوں کہ اب میری لڑائی کے لئے طیار ہو جا۔ غرض اہلِ اصطفاء خدائے تعالیٰ کے بہت پیارے ہوتے ہیں اور اُس سے نہایت شدید تعلق رکھتے ہیں ۔ اُن کی عیب جوئی اور نکتہ چینی میں خیر نہیں ہے۔ اور ہلاکت کے لئے اس سے کوئی بھی دروازه نزدیک تر نہیں کہ انسان اندھا بن کر محبان اور محبوبانِ الہی کا دشمن ہو جائے۔ اور یادر ہے کہ مغفرت کے صرف یہی معنے نہیں کہ جو گناہ صادر ہو جائے اُس کو بخش دینا بلکہ یہ بھی معنے ہیں کہ گناہ کو تیز قوت سے حنیز فعل کی طرف نہ آنے دینا اور ایسا خیال دل میں پیدا ہی نہ کرنا ۔ ان پیشگوئیوں میں بھی بار بار خدائے تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ایک گمنامی کی حالت کو خدائے تعالی شہرت کی حالت سے بدل دے گا اور گو کتنے فتنے پیدا ہوں گے اُن سب سے خدائے تعالیٰ نجات دے گا۔ اور جیسے اول عیب جو اور نکتہ چین تھے آخری حصہ عمر میں بھی ایسے ہی ہوں گے لیکن خدا ایک ایسی فتح نمایاں ظاہر کرے گا کہ ان نکتہ چینوں