براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 90
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۹۰ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور اپنے نبیوں کی بریت کے لئے اپنے تائیدی نشانوں اور عظیم الشان نصرتوں کو کافی سمجھا۔ کیونکہ ہر ایک غیبی اور پلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہ نعوذ باللہ ایسے ہی نفسانی آدمی اور مفتری اور نا پاک طبع ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اُن کی نصرت کے لئے ایسے بڑے بڑے نشان دکھلائے جاتے سو خدا تعالیٰ نے اپنی سنت قدیمہ کے موافق حصص سابقہ براہین احمدیہ میں میری نسبت بھی یہی وحی کی جو اوپر ذکر ہو چکی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا بڑی بڑی فتوحات اور عظیم الشان نشان تیری تائید میں دکھلائے گا تا وہ اعتراض جو دنیا کے اندھے لوگوں نے تیرے پہلے حصہ زندگی کی نسبت یا اخیر حصہ زندگی کی نسبت کئے ہیں ان سب کا جواب پیدا ہو جائے کیونکہ عالم الاسرار کی شہادت سے بڑھ کر اور کوئی شہادت نہیں اور ذئب کا لفظ اس اعتبار سے بولا گیا ہے کہ معترض اور نکتہ چین جو حملہ کرتے ہیں وہ اپنے دلوں میں مرسلین کی نسبت ان نکتہ چینیوں کو ایک ذنب قرار دے کر حملہ کرتے ہیں۔ پس اس کے یہ معنے ہوئے کہ جو ذنب تیری طرف منسوب کیا گیا ہے نہ یہ کہ حقیقت میں کوئی ذنب ہے اور خود یہ ادب سے دور ہے کہ انسان اس وحی الہی کے یہ معنے کرے کہ در حقیقت کوئی ذنب ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے بخش دیا بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ ذنب کے نام پر اُن کی طرف حمد خدا نے مجھ پر ظاہر فرمایا ہے کہ آخری حصہ زندگی کا یہی ہے جواب گذر رہا ہے جیسا کہ عربی میں وحی الہی یہ ہے۔ قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَر وَلا تُبقى لك من المخزيات ذكرا - یعنی تیری اجل مقدراب قریب ہے اور ہم تیری نسبت ایک بات بھی ایسی باقی نہیں چھوڑیں گے جو موجب رسوائی اور طعن تشفیع ہو۔ اسی بناء پر اس نے مجھے توفیق دی کہ پنجم حصہ براہین احمدیہ شائع کیا جائے۔ اور ایسا ہی خدائے عز و جل نے اپنی اس وحی میں میرے قرب اجل کی طرف اشارہ فرمایا۔ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تیرا حادثہ ہوگا۔ منہ