براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 725
۔پھر جب ہر طرف سے لاچار ہو جاتا ہے تو آخر میں خدا کے حضور روتا ہے۔اس پاک درگاہ کے سامنے چیخیں مارتا ہے اور عاجزی سے ماتھے کو خاک پر رکھتا ہے۔اپنا دروازہ بند کر کے رو رو کے عرض کرتا ہے کہ اے مشکل کشا!۔میرے گناہ بخش اور میری پردہ پوشی کر تا کہ دشمن خوشی سے باغ باغ نہ ہو۔جب انسان کی فطرت ایسی ہے یعنی اس میں وہ تینوں صفات موجود ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔تو اُس حکیم نے بھی بے حد مہربانی کے ساتھ اُسے اُس کی فطرت کے موافق سامان عطا کئے۔جدو جہد کے لئے خدا نے اسے عقل بخشی- فکر، قیاس اور غور کا راستہ کھول دیا۔باہمی امداد کے لئے اس نے ایک دوسرے کے دل میں رحم رکھ دیا۔برا دریاں، قبیلے اور قومیں بنا کر اُس نے ایک نظام قائم کیا اور تعلقات مکمل کر دئیے۔اور خدائی فیضان کی ضرورت کے لئے اپنے رحم سے الہام مرحمت فرمایا۔تا کہ آدمی کا کام اپنے کمال کو پہنچ جائے تا کہ ساری خواہشیں پوری ہو جائیں۔تا کہ تعلیم یقین کی حد تک جا پہنچے اور عقل وسمجھ کا راستہ ڈبل ہو جائے صفحہ ۳۷۷۔تلقین کے ان دو راستوں سے یقین حاصل کرنے کا رستہ کھل جاتا ہے۔ہر طبیعت اپنی سمجھ اور خیال کے مطابق ان وسائل کے ذریعہ گمراہی کے کنوئیں سے باہر نکل آتی ہے۔غرض یہ کہ وہ قدرتی میلان جو خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں پیدا کیا ہے۔وہ بھی خدائی الہام کا طلب گار تھا غور سے دیکھ تا کہ تو حقیقت کو سمجھے۔جب تیری فطرت ہی اسی طرح واقع ہوئی ہے پھر اے نادان! اس فطرت سے کیوں روگردانی کرتا ہے۔انسانی طبیعت کا تقاضا جو اُس محسن خدا نے اس میں ودیعت کیا ہے۔کبھی بشر کو قیاس کی طرف کھینچتا ہے تاکہ اپنے کام کی بنیاد عقل پر رکھے۔پھر دوسرے وقت وہی تقاضا اسے روایات کی طرف لاتا ہے تا کہ معتبر انسانوں کے بیان سے تسلی پکڑے۔کیونکہ سکونِ دل اور اطمینانِ قلب راست بازوں کی روایتوں کے سوا پیدا نہیں ہو سکتا