براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 726 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 726

۔نیز چونکہ تعلیم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ) شاگرد کی(عقل کے مطابق سمجھایا جائے۔اس لئے دو راستے کھول دئیے گئے ہیں تا کہ ہر طبیعت کا انسان خدا تک پہنچ سکے۔تا کہ ذہین اور غبی شریف اور رذیل اُس بے مثل خدا کی طرف راہ پائیں۔ایک اور دلیل بھی اُس رحمان کی وحی کی ضرورت پر یہ ہے۔کہ خدائے واحد کی اس قدر شہرت صرف عقلوں کی کوشش سے نہیں ہو سکتی تھی۔اگر خدا خود ہی نہ کہتا کہ میں موجود ہوں تو سارا جہاں اس کے سامنے سر بسجود کیوں ہوتا۔اُس یار کی ہستی کے متعلق اُس شور سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا عالم اس کا عا ِشق زار ہے۔یہ) شور(بھی رب العالمین نے خود ہی ڈالا ہے نہ کہ آدمی نے اُس پر احسان کیا ہے۔افسوس یہ کیسے انسان ہیں جو خدا کو چھوڑ کر خودی میں پڑگئے۔جب وحی کا فیضان ہی نہ تھا تو عقل کہاں سے آگئی آنکھ کا وجود تو آفتاب کی وجہ سے ہے۔اگر سورج اپنا نور نہ دیتا تو ہماری آنکھ خود بخود کس طرح دیکھ سکتی۔گل کے فیضان سے بلبل نے بات کرنا سیکھی وہی شخص اس بات سے منکر ہو سکتا ہے جو اپنی آنکھیں بند کر لے۔سارا جہان خدا کی نعمتوں کا گواہ ہے لیکن بے وقوف خدا کی وحی اور القا کا منکر ہے صفحہ ۳۷۸۔اپنے دل میں پاک لوگوں کی محبت بٹھاتا کہ اے جانِ مَن تو بھی پاکوں میں داخل ہو جائے۔یہ عقل تو ساری مخلوقات کے پاس ہے اس پر ناز نہ کر کیونکہ تیرے جیسے بہت ہیں۔یار کے سوا ہمارا علاج اور کہاں ہے ہماری ہستی کیا اور ہماری کمزور عقل ہی کیا۔تو جدائی کا زہر چکھ رہا ہے اور نامراد ہے اس پر بھی وحی والہام سے منکر ہے۔پانی نہ پینے کی وجہ سے تو جاں بلب ہے پھر بھی آبِ حیات سے منہ پھیر رکھا ہے۔خود تو اندھا ہے اور آنکھوں والوں سے دشمنی رکھتا ہے تیری بدبختی اور نقصان پر افسوس ہے۔درد دل کی دوا ہماری عقل نہیں ہے وہ دوا تو وحی الٰہی کے شفاخانہ میں ہے۔سونے کا تصور سونا نہیں ہوا کرتا بلکہ سونا وہی ہے جو نظر آجائے