براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 724 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 724

۔اگر تجھے یار کی طرف جانے کا شوق ہے تو راستی کے پہلو کو مقدم رکھ۔اور اگر کچھ شبہ ہے تو اٹھ اور تجربہ کر لے تا کہ میں تیرے شکوک جڑ سے نکال پھینکوں۔اگر عقل غلطی سے پاک ہوا کرتی تو چاہیے تھا کہ ہر عقلمند باخدا ہوتا۔کوئی بھی بھول چوک اور غلطی سے بچا ہوا نہیں۔سوائے اس خدا کے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔تو استقرا کی رو سے غور کر اگر کوئی ان باتوں سے بچا ہے تو ُتو ہی بتا دے۔ورنہ فساد اور انکار سے باز آ اور جھوٹ کی سڑی ہوئی لاش کو ہرگز نہ کھا۔آخر کار تجھے خدا سے ہی کام پڑے گا تو آپ ہی سوچ لے اور اُس عادل سے ڈر۔جو دل شراب خانہ میں پڑا ہوا ہے وہ دلدل میں سے آپ ہی کیوں کر نکل سکتا ہے۔تو نے باطل کی طرف توجہ کر رکھی ہے باز آجا ایک بدصورت پر عاشق ہو گیا ہے تو باز آجا۔تو نجاست کی کوڑیوں پر پڑا ہوا ہے باز آ، کہاں کھڑا ہے، باز آ۔اے عقل وخرد کی لاف وگزاف مارنے والے ہوش میں آ اور حد سے پاؤں باہر نہ رکھ صفحہ ۳۷۶۔ناممکن باتوں کا دعویٰ کرنا بداطواری اور گمراہی ہے۔جو شخص ویرانوں میں اپنا ٹھکانا بناتا ہے وہ پاگلوں سے بھی بدتر ہے۔تو نیکی کے راستے سے اس طرح کیوں انکار کرتا ہے کیا نہیں جانتا کہ آخر حساب دینا پڑے گا۔تیرا پیر لنگڑا اور منزل دور ہے مجھے ڈر ہے کہ اس حالت میں تو منزل پر کیوں کر پہنچے گا۔آدمی کی اپنی فطرت بھی یہی ہے کہ جب مشکل کو سخت دیکھتا ہے۔تو پہلے اپنے ہی زور قوت اور طاقت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے۔تا کہ رکا ہوا کام چل نکلے اور وہ کسی کا مرہونِ احسان نہ ہو۔لیکن جب دیکھتا ہے کہ کام اس کی طاقت سے باہر ہے اور اختیار کی رسی اس کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔تو اپنے دوستوں کی گلی کا رخ کرتا ہے اور مددگاروں سے مدد مانگتا ہے۔اپنے بھائیوں کے ہاتھوں کا زور تلاش کرتا ہے اور ہر واقف کار کے پاس دوڑ کر جاتا ہے