براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 717
۔تو کس طرح پسند کرتا ہے کہ ہر نور کے بخشنے والے نے بخل اختیار کر لیا یا وہ عاجزآگیا ہے۔تو کس طرح پسند کرتا ہے کہ غیرت مند خدا قبروں کے ُمردوں کی طرح عاجز ہے۔مذہب اور دین تو خدا کی عظمت کے لئے ہیں ایسے مذہب پر ُتف ہے جو اُس کی توہین کرتا ہے۔وہ خدا جس نے خلق کو زبان دی اور خاک کو گویائی کی قوت بخشی۔وہ خود کس طرح گونگا اور بے زبان ہو سکتا ہے تجھے اُس پاک اور کامل وجود سے شرم کرنی چاہیے۔وہ سارے کمالات اور جاہ وجلال کا جامع ہے اے گرفتارِ گمراہی وہ ناقص کس طرح ہو سکتا ہے۔جب اُس کی تمام صفات ظاہر ہو گئیں تو پھر اُس کا بولنا کیوں کر مخفی رہ سکتا تھا۔آنکھیں آخر اسی کام کے لئے ہوتی ہیں کہ آدمی اُن سے راستہ دیکھے۔یہ تیری آنکھ اور نظر بھی خوب ہے کہ آفتاب اسے نظر نہیں آتا۔اگر تیرے دل میں خدا کا خیال ہوتا تو اتنی لاپروائی تجھ سے ظہور میں نہ آتی۔تو اپنے جان ودل سے اس کا راستہ ڈھونڈتا اور صدق سے اس کی طرف دوڑتا۔جس کا دل کسی معشوق سے لگا ہوا ہوتا ہے وہ تو واقف کار سے اُس کی خبر معلوم کرتا رہتا ہے۔اگر محبوب کی ملاقات میسر نہ ہو تو یار کے خط ہی کا طالب ہوتا ہے۔اُسے محبوب کے سوا آرام نہیں آتا کبھی اُس کے منہ کو دیکھتا ہے کبھی اُس کے کلام کو۔وہ شخص جس کی محبت تیرے دل میں ہے۔تجھے بغیر اس کی ملاقات کے صبر نہیں آتا۔اگر اُس سے اتفاقاً جدائی ہو جائے تو تیرے بدن سے تیری جان نکلنے لگے۔تیرا دل اُس کے ہجر سے کباب ہو جائے اور اُس کے جانے سے تیری آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔پھر جب وہ حسن اور وہ چہرہ کسی گلی میں تیری آنکھوں کے سامنے آجائے۔تو ُتو دیوانہ وار اس کا دامن پکڑ کر کہتا ہے کہ تیرے نہ دیکھنے کی وجہ سے میرا دل خون ہو گیا صفحہ ۳۷۰۔مخلوقات میں سے ایک ذرّہ کے ساتھ تو ایسی محبت، مگر خدائے لاثانی کو تو نے دل سے اتار رکھا ہے۔تو اُس یار سے بالکل بے پروا ہو گیا ہے اور اُس کے جمال اور گفتار سے بے تعلق