براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 688 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 688

۔میں نے ہر مذہب پر خوب غور کیا اور ہر شخص کی دلیل کو توجہ سے سنا۔میں نے ہر مذہب کی بہت سی کتابوں کو پڑھا اور ہر قوم کے عقلمندوں کو دیکھا۔بچپن سے ہی میں نے اس(راہ) کی طرف توجہ کی اور اپنے تئیں اسی شغل میں ڈال دیا۔اپنی جوانی بھی میں نے اسی میں خرچ کی اور دل کو اور کاموں سے فارغ کر دیا۔میں ایک لمبا عرصہ اسی غم میں مبتلا رہا اور اس بات کی فکر میں راتوں نہیں سویا۔میں نے حق اور راستی کو مدنظر رکھ کر اور خدا کا خوف کر کے عدل وانصاف کے ساتھ خوب غور کیا۔تو میں نے اسلام کی مانند قوی اور مضبوط دین اور کوئی نہیں پایا۔اس کے منبع پر آفرین ہو۔یہ دین اس قدر اعلیٰ صفائی رکھتا ہے کہ حاسد کو اس میں اپنا چہرہ نظر آجاتا ہے۔یہ) دین(اس طرح پاکیزگی کا راستہ دکھاتا ہے کہ عقل اس کے صدق پر گواہی دیتی ہے۔یہ سراسر حکمت، عقل اور انصاف سکھاتا ہے اور ہر قسم کی جہالت اور فساد سے بچاتا ہے۔اس جیسا مذہب دنیا میں اور کوئی نہیں اس کے مخالف جو بھی طریقہ ہے خدا کرے وہ نابود ہو جائے۔اس کے اصول جومدارِ نجات ہیں وہ سچائی اور مضبوطی میں سورج کی طرح چمکتے ہیں۔دیگر مذاہب کے اصول بھی ظاہر ہیں کوئی کوشش ان کو چھپا نہیں سکتی۔اگر غیر مسلم عقل رکھتا تو جان دے دیتا مگر ِجنس اسلام کو نہ چھوڑتا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے نور کا سب سے بڑا نقش ہیں۔ان جیسا انسان دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا۔ہر ملک سچائی سے خالی تھا۔اس رات کی طرح جو بالکل اندھیری ہو۔خدا نے اُسے بھیجا اور اُس نے حق کو پھیلایا۔زمین میں اُس کے آنے سے جان پڑ گئی۔وہ عالم قدس و کمال کے باغ سے پیوند لگاتے چلے جانے والا درخت ہے اور اُس کی سب آل گلاب کے پھولوں کی طرح ہے صفحہ ۸۷۔اگر مقابلہ میں بدشکل اور سیاہ رو نہ ہوتا تو کیوں کر کوئی گل اندام معشوق کا حسن پہچان سکتا۔اگر دشمن سے لڑائی اور جنگ واقع نہ ہوتی تو خون پینے والی تلوار کا جوہر کیونکر ظاہر ہوتا