براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 689 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 689

۔اندھیرے کی وجہ سے ہی روشنی کی قدر ہے اور جہالت کی وجہ سے ہی عقل کی عزت قائم ہے۔سچی دلیل عیب گیری اور بحث کی وجہ سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے اور بے ہودہ بہانہ تو الزام ہی کو ثابت کرتا ہے صفحہ ۹۲۔جو شخص روشن سورج پر تھوکتا ہے تو ذلت کا تھوک اُس کے ہی منہ پر پڑتا ہے۔اس کے منہ پر قیامت کے دن تک لعنت ہے پاک ہستیاں اُس کی بدبو سے بہت دور رہتی ہیں صفحہ ۱۲۴۔اس ذلیل دنیا کا عیش چند روزہ ہے بالآخر خدا تعالیٰ سے ہی کام پڑتا ہے۔یہ دنیا زوالِ موت اور فنا کی سرائے ہے جو بھی یہاں رہا وہ آخر رخصت ہوا۔تھوڑی دیر کے لئے قبرستان میں جا اور وہاں کے ُمردوں سے حال پوچھ۔کہ دنیاوی زندگی کا انجام کیا ہے اور جو پیدا ہوا وہ کب تک جیا ہے۔کینہ، تکبر، فخر اور ناز چھوڑ دے تا کہ تیرا خاتمہ گمراہی پر نہ ہو۔جب تو اِس دنیا سے اپنا سامان باندھ لے گا تو پھر ان شہروں اور ملکوں میں واپس نہیں آئے گا۔اے دین سے بے خبر ! دین کا غم کھاکیونکہ تیری نجات دین سے ہی وابستہ ہے۔خبردار اپنے اس غم سے غفلت نہ کیجیو کیونکہ تجھے مشکل کام درپیش ہے۔اپنے دل کو اس درد وغم سے زخمی کر۔دل کیا بلکہ جان بھی قربان کر دے۔تیرا سارا واسطہ تو اسی ایک ذات سے ہے افسوس ہے کہ پھر اس کے بغیر کیونکر تجھے صبر آتا ہے۔جب تو اس سے برگشتہ ہوتا ہے تو تیری قسمت خراب ہوتی ہے اور عجز کے ساتھ اس کے حضور آنے سے دولت ملتی ہے۔کس طرح تو ایسے دوست سے تعلق قطع کر سکتا ہے اور کس طرح ایسی بیوقوفی کا کام کر سکتا ہے۔یہ دنیا تو مردار کی طرح ہے اور اُس کے طلبگار کتوں کی طرح اسے چمٹے ہوئے ہیں۔وہ شخص خوش قسمت ہے جو اس مردار سے بچ کر اپنا منہ خدا کی طرف پھیرتا ہے۔غیر کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا ہے اور انصاف کرتا ہے اور دوست کے خیال میں اپنا سر قربان کر دیتا ہے