براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 687 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 687

۔زمین کو کاشت سے خالی رکھنا اس سے بہتر ہے کہ کانٹوں اور گوکھرو کا بیج اس میں بویا جائے۔اگر تیری عقل کی آنکھ کھل جائے تو ُتو خدا کے راستے کو عاجزی اور خاکساری سے ڈھونڈے۔سچے دل سے اُس کا طلب گار ہو جائے اور خواب میں بھی اُس سے غافل نہ رہے۔اُس کے بغیر تو ایک دم بھی چین نہ پائے یہاں تک کہ خدا کا نشان پا لیوے۔موت تیرے سر پر ہے اور تیری ہستی حباب کی مانند ہے مگر تو اسی طرح نیند میں مدہوش ہے۔اپنے پچھلے باپ دادوں کو دیکھ کہ وہ کس طرح اس دنیا سے گزر گئے۔اُن کا انجام تجھے یاد نہیں رہا اور تو نے تھوڑے ہی دنوں میں اُسے بھی بھلا دیا۔موت کے مقابلہ میں تیرے پاس کیا حیلے حوالے ہیں کیا تو نے کوئی دیوار اس کے روکنے کے لئے بنالی ہے۔جب اچانک موت کا مگر مچھ) انسان کو(کھینچ لے جاتا ہے تو پھر آدمی اتنا تکبر کیوں کرے۔اے جوان! اس ذلیل دنیا سے دل نہ لگا کیونکہ چٹ پٹ اس کا تماشا ختم ہو جانا ہے۔دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہااور زمانہ کا حال ایک جیسا نہیں رہتا۔ہم نے درد بھر ے دل کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے بکثرت لوگوں کو خاک کے سپرد کیا ہے۔جب ہم نے خود بہت سی مخلوق کو دفن کیا ہے تو پھر کیوں نہ ہم اپنی موت کا دن یاد رکھیں۔اپنے دل سے ان کی یاد کیوں بھلا دیں ہم فولاد تن اور کانسی کے بنے ہوئے تو نہیں ہیں۔اے مخالف ! خدا کے غضب سے ڈر کہ ہمارے خدا کا قہر بہت سخت ہے۔پروردگار کا خوف نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے شہر اور ملک برباد ہو گئے۔اُن بیباک لوگوں کا نشان تک نہ رہا۔نشان تو کیا ایک ہڈی بھی باقی نہ رہی۔عقلمندی یہی ہے کہ انسان ڈرتا رہے ورنہ پھر مصیبت پر مصیبت دیکھنی پڑے گی صفحہ ۸۵۔ناپاکی اور گندگی میں زندگی بسر کرنا۔ایسی زندگی سے تو مرنا بہتر ہے۔آاور انصاف کی راہ پر قدم رکھ۔عداوت کی وجہ سے توبہ کرنا کیوں حرام ہو گیا؟۔یقین کر لے کہ میری یہ بات انصاف پر مبنی ہے سرسری اور لاف وگزاف نہیں