براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 646 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 646

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۴۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم اس کی کیفیت ظاہر فرمائی اور بیان فرمایا کہ اس ارحم الراحمین کی یوں عادت ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے اور خط تاریکی کا اپنے انتہائی نقطہ پر جا ٹھہرتا ہے یعنی اس غایت درجہ پر جس کا نام باطنی طور پر لیلۃ القدر ہے۔ تب خداوند تعالیٰ رات کے وقت میں کہ جس کی ظلمت باطنی ظلمت سے مشابہ ہے عالم ظلمانی کی طرف توجہ فرماتا ہے اور اس کے اذن خاص سے ملائکہ اور روح القدس زمین پر اترتے ہیں اور خلق اللہ کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کا نبی ظہور فرماتا ہے تب وہ نبی آسمانی نور پا کر خلق اللہ کو ظلمت سے باہر نکالتا am ہے اور جب تک وہ نو را اپنے کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور اسی قانون کے مطابق وہ اولیاء بھی پیدا ہوتے ہیں کہ جو ارشاد اور ہدایت خلق کے لئے بھیجے جاتے ہیں کیونکہ وہ انبیا کے وارث ہیں سو ان کے نقش قدم پر چلائے جاتے ہیں۔ سے ظہور میں آچکے اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہو چکی ہیں ۔ اور دوسو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا کے آثار نمایاں ایسے نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی طرح کشف قبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورہ کے التزام ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنی پر تو وہ اُن کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑ جائے تو ایک دفعہ حب دنیا سے قطع تعلق کر کے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہو جائے ۔ اسی طرح بذریعہ الہامات صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی دیں ہمان باشد که نورش باقی است و از شراب دید هر دم ساقی است ۵۴۰ بقيه حاشیه در حاشیه نمبر پر تو آیات کمال دل مده الا بخوبی کر جمال وا نماید کوری خود ترک کن ماہے یہ ہیں اے گدا برخیز واں شاہے یہ ہیں رو به تین و قد به بین و خد به میں و از محاسنہائے خوباں صد یہ ہیں