براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 647
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۴۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم اب جاننا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ نے اس بات کو بڑے پر زور الفاظ سے قرآن شریف میں بیان کیا ہے کہ دنیا کی حالت میں قدیم سے ایک مد و جزر واقعہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ لے یعنی اے خدا کبھی تو رات کو دن میں اور کبھی دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی ضلالت کے غلبہ پر ہدایت اور ہدایت کے غلبہ پر ضلالت کو پیدا کرتا ہے ۔ اور حقیقت اس مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامر اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور مجو بیت کی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں ۔ یہ ظلمت (۵۳۹) کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلۃ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلۃ القدر ہمیشہ آتی اشیه نمبرا | بقیه حاشیه در حاشیه نمبر رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہو گئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دوا انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں اور یہ عاجز بطفیل متابعت حضرت رسول کریم مخاطبات حضرت احدیت ۵۴۰ میں اس قدر عنایات پاتا ہے کہ جس کا کچھ تھوڑا سا نمونہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ کے عربی الہامات وغیرہ میں لکھا گیا ہے ۔ خدا وند کریم نے اسی رسول مقبول کی متابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے اور علوم لدنیہ سے سرفراز فرمایا ہے ۔ ۔ تا مگر نوشی تو کاسات لقا یکدم از خود دور شو بهر خدا دین حق شہر خدائے امجد است داخل او در امان ایزد است در دمے نیک و خوش اسلوبی کند ہم چو خود زیبا و محبوبی کند جانب اہلِ سعادت پے بزن تا شوی روزے سعید اے جانِ من ال عمران: ۲۸ ۵۴۱