براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 645 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 645

روحانی خزائن جلد ۱ ۶۴۳ براہین احمدیہ حصہ چہارم کی طرف بلا اختیار کھینچے جاتے ہیں اور کسی سے انجام پذ یر نہیں ہوسکتا اور حقیقت میں ایسے وقت کی ثابت قدمی اور صبر اور عبادت الہی کا ثواب بھی وہ ملتا ہے کہ جو کسی دوسرے وقت میں ہرگز نہیں مل سکتا۔ سو اسی جہت سے لیلۃ القدر کی ایسے ہی زمانہ میں بنا ڈالی گئی کہ جس میں باعث سخت ضلالت کے نیکی پر قائم ہونا کسی بڑے جوانمرد کا کام تھا یہی زمانہ ہے جس میں جوانمردوں کی قدرومنزلت ظاہر ہوتی ہے اور نامردوں کی ذلّت به پایہ ثبوت پہنچتی ہے یہی ۵۳۷) پر ظلمت زمانہ ہے جو اندھیری رات کی طرح ایک خوفناک صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ سواس طغیانی کی حالت میں کہ جو بڑے اجتلا کا وقت ہے وہی لوگ ہلاکت سے بچتے ہیں جن پر عنایات الہیہ کا ایک خاص سایہ ہوتا ہے پس انہیں موجبات سے خدائے تعالیٰ نے اسی زمانہ کی ایک جز کو جس میں ضلالت کی تاریکی غایت درجہ تک پہنچ چکی تھی لیلۃ القدر مقرر کیا اور پھر بعد اس کے جس سماوی برکات سے اس ضلالت کا تدارک کیا جاتا ہے سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورۃ فاتحہ مظہر انوار الہی ہے اس قدر عجائبات اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدرومنزلت معلوم ہوتا ہے اس سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کے تلاوت کے التزام سے کشف مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صد با اخبار غیبه قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہر یک مشکل کے وقت اس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رویا صادقہ یاد ہے کہ جواب تک اس عاجز حاشیه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ فرق بسیار است در دید و شنید خاک بر فرق کسے کہیں را ندید دید را گن جستجو اے ناتمام ورنہ درکار خودی بس سردو خام بر سماعت چوں ہمہ باشد بنا آں نیفزاید جوئے صدق و صفا صد ہزاراں قصہ از روئے شنید نیست یکساں باجوئے کاں ہست دید ۵۳۹