براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 644
۶۴۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ ہو اور محبت الہیہ یک لخت دلوں سے اٹھ گئی ہو اور روبحق ہونے میں اور وفادار بندہ بننے میں (۵۳۶) کئی نوع کے ضرر متصور ہوں نہ کوئی اس راہ کا رفیق نظر آوے اور نہ کوئی اس طریق کا ہمدم ملے بلکہ اس راہ کی خواہش کرنے والے پر موت تک پہنچانے والی مصیبتیں دکھائی دیں اور لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر ٹھہرتا ہو تو ایسے وقت میں ثابت قدم ہو کر اپنے محبوب حقیقی کی طرف رخ کر لینا اور ناہموار عزیزوں اور دوستوں اور خویشوں اور اقارب کی رفاقت چھوڑ دینا اور غربت اور بے کسی اور تنہائی کی تکلیفوں کو اپنے سر پر قبول کر لینا اور دکھ پانے اور ذلیل ہونے اور مرنے کی کچھ پرواہ نہ کرنا حقیقت میں ایسا کام ہے کہ بجز اولوالعزم مرسلوں اور نبیوں اور صدیقوں کے جن پر فضل احدیت کی بارشیں ہوتی ہیں اور جو اپنے محبوب سواے بھائیو انہیں پنڈت صاحب کے حال سے نصیحت پکڑو اور اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو کچی نجات کو ڈھونڈ و تا اسی جہان میں اس کی برکتیں پاؤ ۔ سچی اور حقیقی نجات وہی ہے جس کی اس جہان میں برکتیں ظاہر ہوتی ہیں اور قادر قوی کا وہی پاک کلام ہے کہ جو اسی جگہ طالبوں پر آسمانی راہ کھولتا ہے سو اپنے آپ کو دھو کا مت دو اور جس دین کی حقیت اسی دنیا میں نظر آ رہی ہے اس پاک دین سے روگردان ہو کر اپنے دل پر تاریکی کا دھبہ مت لگاؤ ہاں اگر مقابلہ اور معارضہ کرنے کی طاقت ہے تو اسی سورہ فاتحہ کے کمالات کے مساوی کوئی دوسرا کلام پیش کرو اور جو کچھ سورۂ فاتحہ کے خواص روحانی کی بابت اس عاجز نے لکھا ہے وہ کوئی سماعی بات نہیں ہے بلکہ یہ عاجز اپنے ذاتی تجربہ ۵۳۷ ۵۳۸ ۵۳۸ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر زیں سنیا ہر کہ روگرداں بود آں نہ مردے رہندن مردان بود کز جفا با حق نمیدارند کار اے خدا یخ خبیث نے برار دل نمیدارند و چشم و گوش هم باز سر پیچاں ازاں بدر اتم گفتگو ها بر زباں دل بے قرار دین شان بر قصه ها دارد مدار