براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 643
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۴۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم کی ایک رات ہزار مہینہ سے بہتر بنائی گئی۔ اور اگر معقولی طور پر نظر کر میں تب بھی ظاہر ہے کہ ضلالت کا زمانہ عبادت اور طاعت الہی کے لئے دوسرے زمانہ سے زیادہ تر موجب قربت و ثواب ہے پس وہ دوسرے زمانوں سے زیادہ تر افضل ہے اور اس کی عبادتیں بباعث شدت وصعوبت اپنی قبولیت سے قریب ہیں اور اس زمانہ کے عابد رحمت الہی کے زیادہ تر مستحق ہیں۔ کیونکہ بچے عابدوں اور ایمانداروں کا مرتبہ ایسے ہی وقت میں عند اللہ متفق ہوتا ہے کہ جب تمام زمانہ پر دنیا پرستی کی ظلمت طاری ہو اور سچ کی طرف نظر ڈالنے سے جان جانے کا اندیشہ ہو اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب دل افسردہ اور مردہ ہو جائیں اور سب کسی کو جیفہ دنیا ہی پیارا دکھائی دیتا ہو اور ہر طرف اس روحانی موت کی زہرناک ہوا چل رہی کہ پنڈت صاحب کو خدا نے ایسا موقع ہدایت پانے کا دیا کہ اس عاجز کو ان کے زمانہ میں پیدا ۵۳۶) کیا مگر وہ با وصف ہر طور کے اعلام کی ہدایت پانے سے بے نصیب گئے ۔ روشنی کی طرف ان کو بلایا گیا مگر انہوں نے کم بخت دنیا کی محبت سے اُس روشنی کو قبول نہ کیا اور سر سے پاؤں تک تاریکی میں پھنسے رہے۔ ایک بندہ خدا نے بارہا اُن کو اُن کی بھلائی کے لئے اپنی طرف بلایا مگر انہوں نے اُس طرف قدم بھی نہ اٹھایا اور یونہی عمر کو بے جا تعصبوں اور نخوتوں میں ضائع کر کے نہ کو بے اور حباب کی طرح نا پدید ہو گئے حالانکہ اس عاجز کے دس ہزار روپیہ کے اشتہار کا اول نشانہ وہی تھے اور اسی وجہ سے ایک مرتبہ رسالہ برادر هند میں بھی ان کے لئے اعلان چھپوایا گیا تھا مگر ان کی طرف سے کبھی صدا نہ اٹھی یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جاملے ۔ حاشیه نمبراا 3 بقیه حاشیه در حاشیه نمبر راهیم گر باشدم این کیفرے خوں رواں برخاک افتادہ سرے راضیم گر مال و جان و تن رود و آنچه از قسم بلا بر من رود راضیم بر ہر سزائے کا ذباں گردر و غم رفته باشد بر زباں ایک گر توزین سخن پیچی سرے بر تو ہم نفرین رپ اکبرے ۵۳۷