براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 580
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۷۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم (٢٨٢) إِنَّ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں میں سے صاحب يُتْلَى عَلَيْهِمُ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ علم ہیں جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ سُجَّدًا وَ يَقُولُونَ سُبْحَنَ رَبَّنَا ان کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر گر پڑتے ہیں اور کہتے كَانَ وَعْدُ رَبَّنَا لَمَفْعُولاً وہ ہیں کہ ہمارا خدا تخلف وعدہ سے پاک ہے ایک يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَ دن ہمارے خداوند کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا اور يَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۔ - سورة روتے ہوئے مونہہ پر گر پڑتے ہیں اور خدا کا بنى اسرائيل الجزو نمبر ۱۵ کلام اُن میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہے۔ پس یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جو عیسائیوں اور یہودیوں میں اہل علم اور صاحب انصاف تھے کہ جب وہ ایک طرف آنحضرت کی حالت پر نظر ڈال کر دیکھتے تھے کہ محض اُمّی ہیں کہ تربیت اور تعلیم کا ایک نقطہ بھی نہیں سیکھا اور نہ کسی مہذب قوم فصاحت و بلاغت کے بہت مشکل ہوتا ہے اور جولوگ سخن میں صاحب مذاق ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے لف و نشر کیسا نا زک اور دقیق کام ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اول محامد الہیہ میں فیوض اربعہ کا ذکر فرمایا کہ وہ رب العالمین ہے ۔ رحمان ہے۔ رحیم " ہے ۔ مالک یوم الدین ہے۔ اور پھر بعد اس کے فقرات تعبد اور استعانت اور دعا اور طلب جزا کو انہیں کے ذیل میں اس لطافت سے لکھا ہے کہ جس فقرہ کو کسی قسم فیض سے نہایت مناسبت تھی اُسی کے نیچے وہ فقرہ درج کیا ۔ چنانچہ رَبُّ الْعَالَمِین کے مقابلہ پر اِيَّاكَ نَعْبُدُ لکھا ۔ کیونکہ ربوبیت سے استحقاق عبادت شروع ہو جاتا ہے پس اس کے نیچے اور اسی کے محاذات میں ایاک نَعْبُدُ اور تا مخالفوں کو بھی معلوم ہو کہ جس قوم پر خداوند کریم کی نظر عنایت ہوتی ہے اور جولوگ راہ راست پر ہوتے ہیں ان سے کیونکر خداوند کریم اپنے مکالمات اور مخاطبات میں یہ مہربانی پیش آتا ہے اور کیونکر ان تفضلات سے پیش از وقوع اطلاع دیتا ہے جن کو اس نے لطف محض سے اپنے وقتوں پر طیار رکھا ہے اور وہ الہامات یہ ہیں :۔۔ MAT ه حاشیه در حاشیه بنی اسرآئیل: ۱۰۸ تا ۱۱۰