براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 581
۵۷۹ براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ میں بودوباش رہی اور نہ مجالس علمیہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور دوسری طرف وہ قرآن شریف (۴۸۷) میں صرف پہلی کتابوں کے قصے نہیں بلکہ صد ہا بار یک صداقتیں دیکھتے تھے جو پہلی کتابوں کی مکمل اور تم تھیں تو آنحضرت کی حالت امنیت کو سوچنے سے اور پھر اس تاریکی کے زمانہ میں ان کمالات علمیہ کو دیکھنے سے اور نیز انوار ظاہری و باطنی کے مشاہدہ سے نبوت آنحضرت کی ان کو اظہر من الشمس معلوم ہوتی تھی اور ظاہر ہے کہ اگر ان مسیحی فاضلوں کو آنحضرت کے اُمی اور مؤید من اللہ ہونے پر یقین کامل نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ وہ ایک ایسے دین سے جس کی حمایت میں ایک بڑی سلطنت قیصر روم کی قائم تھی اور جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ بعض حصوں یورپ میں بھی پھیل چکا تھا اور بوجہ اپنی مشر کا نہ تعلیم کے دنیا پرستوں کو عزیز اور پیارا معلوم ہوتا تھا صرف شک اور شبہ کی حالت میں الگ ہو کر ایسے مذہب کو ه نمبراا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر کا لکھنا نہایت موزون اور مناسب ہے اور رحمان کے مقابلہ پر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لکھا۔ کیونکہ بندہ کے لئے امانت ابھی جو توفیق عبادت اور ہر ایک اس کے مطلوب میں ہوتی ہے جس پر اس کی دنیا م کے اور آخرت کی صلاحیت موقوف ہے یہ اس کے کسی عمل کا پاداش نہیں بلکہ محض صفت رحمانیت کا اثر ہے۔ پس استعانت کو صفت رحمانیت سے بشرت مناسبت ہے۔ اور رحیم کے مقابلہ پر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لکھا کیونکہ دعا ایک مجاہدہ اور کوشش ہے اور کوششوں پر جو شمر و منتر تب ہوتا ہے وہ صفت رحیمیت کا اثر ہے۔ اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے مقابلہ پر صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ بورکت یا احمد و کان ما بارک الله فیک حقًا فیک ۔ اے احمد تو مبارک کیا گیا اور خدا نے جو تجھ میں برکت رکھی ہے وہ حقانی طور پر رکھی ہے ۔ شانک (۱۸۷) جیب و اجرک قریب ۔ تیری شان عجیب ہے اور تیرا بدلہ نزدیک ہے ۔انسی راض منک۔ انى رافعک الی و الارض والسماء معك كما هو معى ـ میں تجھ سے راضی ہوں میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ۔ زمین اور آسمان تیرے