براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 566
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۶۴ براہین احمدیہ حصہ چہارم (۴۷۳ عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ اَشَاءُ میں جس کو چاہتا ہوں عذاب پہنچا تا ہوں اور میری وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ رحمت نے ہر چیز پر احاطہ کر رکھا ہے سو میں اُن کے لیے جو ہر یک طرح کے شرک اور کفر اور فواحش سے پر ہیز فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور نیز اُن کیلئے جو ہماری الزَّكُوةَ وَالَّذِينَ هُم بِايَتِنَا يُؤْمِنُونَ نشانیوں پر ایمان کامل لاتے ہیں اپنی رحمت لکھوں گا وہ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيُّ الْأُمِّى وہی لوگ ہیں جو اُس رسول نبی پر ایمان لاتے ہیں کہ الَّذِي يَجِدُوْنَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ جس میں ہماری قدرت کاملہ کی دو نشانیاں ہو جاتے ہیں اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے قُل مَا يَعُوا بِكُمُ رَبِّ لَوْلا دُعَاؤُكُمْ لا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ العلمین کے یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پر وا کیا رکھتا ہے اگر تم دعانہ کرو اور اس کے فیضان کے خواہاں نہ ہو خدا کو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں وہ تو بے نیاز مطلق ہے۔ اور آریہ سماج والے اور عیسائی بھی ان تینوں صداقتوں میں سے پہلی اور تیسری صداقت سے بے خبر ہیں۔ کوئی اُن میں سے یہ اعتراض کرتا ہے کہ خدائے تعالی سب یہ معنے ہیں کہ میں جھگڑنے والا ہوں سو اس مختصر فقرہ سے یقینا یہ معلوم ہو گیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے۔ اور هذا شاهد نَزَّا غ کہ جو کاتب کی طرف سے دوسرا فقرہ لکھا ہوا دیکھا تھا اس کے یہ معنے کھلے کہ کا تب خط نے کسی مقدمہ کی شہادت کے بارہ میں وہ خط لکھا ہے۔ اُس دن حافظ نور احمد صاحب بباعث بارش باران امرتسر جانے سے روکے گئے اور در حقیقت ایک سماوی سبب سے ان کا روکا جانا بھی قبولیت دعا کے ایک خبر تھی تا وہ جیسا کہ اُن کے لئے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی گئی تھی پیشگوئی کے ظہور کو چشم خود دیکھ لیں ۔ غرض اس تمام پیشگوئی کا مضمون اُن کو سنا دیا گیا۔ شام کو اُن کے رو برو پادری رجب علی صاحب مہتم و مالک مطبع سفیر ہند کا ایک خط رجسٹری شدہ امرت سر سے آیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب نے اپنے کاتب پر جو اسی کتاب کا کاتب ہے عدالت خفیفہ میں نائش کی ہے اور اس عاجز کو ایک واقعہ کا گواہ ٹھہرایا ہے اور ساتھ اُس کے ایک سرکاری سمن بھی آیا اور اس خط کے آنے کے بعد وه فقره الهامی یعنی هذا شاهد نزاغ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے۔ ان الفرقان: ۷۸ ال عمران: ۹۸