براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 567

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۶۵ براہین احمدیہ حصہ چہارم فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ ہیں۔ ایک تو بیرونی نشانی کہ توریت اور انجیل میں اس کی (۴۷۴) يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوف و نسبت پیشین گوئیاں موجود ہیں جن کو وہ آپ بھی اپنی کتابوں يَنْهُهُمْ عَنِ الْمُنكَرِو میں موجود پاتے ہیں۔ دوسری وہ نشانی کہ خود اُس نبی کی يُحِلُّ لَهُمُ التِ وَ ذات میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ با وجود امی اور نا خواندہ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَل ہونے کے ایسی ہدایت کامل لایا ہے کہ ہر یک قسم کی حقیقی وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمُ صداقتیں جن کی سچائی کو عقل و شرع شناخت کرتی ہے اور جو وَالْأَغْللَ الَّتِي كَانَتْ صفحہ دُنیا پر باقی نہیں رہی تھیں لوگوں کی ہدایت کے لئے بیان عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِ فرماتا ہے اور اُنکو ا سکے بجالانے کیلئے حکم کرتا ہے اور ہر یک لوگوں کو کیوں ہدایت نہیں دیتا۔ اور کوئی یہ اعتراض کر رہا ہے کہ خدا میں صفت اضلال کیونکر پائی جاتی ہے جو (۲۷۴) بقیه حاشیه در حاشیه لوگ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی نسبت معترض ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہدایت الہی انہیں کے شامل حال ہوتی ہے کہ جو ہدایت پانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور ان راہوں پر چلتے ہیں جن راہوں پر چلنا فیضانِ رحمت کے لئے ضروری ہے اور جو لوگ اضلالِ الہی کی نسبت معترض ہیں ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ خدائے تعالیٰ اپنے قواعد مقررہ کے ساتھ ہر یک انسان سے مناسب حال معاملہ کرتا ہے اور جو شخص سستی اور تکاسل معنوں پر محمول معلوم ہوا کہ مہتم مطبع سفیر ہند کے دل میں یہ یقین کامل یہ مرکوز تھا کہ اس عاجز کی شہادت جو ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہوگی باعث و ثافت اور صداقت اور نیز با اعتبار اور قابل قدر ہونے کی وجہ سے فریق ثانی پر تباہی ڈالے گی اور اسی نیت سے مہتم مذکور نے اس عاجز کو ادائے شہادت کے لئے تکلیف بھی دی اور سمن جارتی کرایا اور اتفاق ایسا ہوا کہ جس دن یہ (۴۷۴ پیشگوئی پوری ہوئی اور امرتسر جانے کا سفر پیش آیا وہی دن پہلی پیشگوئی کے پورے ہونے کا دن تھا سو وہ پہلی پیشگوئی بھی میاں نور احمد صاحب کے روبرو پوری ہو گئی یعنی اُسی دن جو دس دن کے بعد کا دن تھا رو پید ا گیا اور امرتسر بھی جانا پڑا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔ یہ پیشگوئی بھی بدستور معمول اسی وقت چند آریوں کو بتلائی گئی اور یہ قرار پایا کہ انہیں میں سے ڈاک کے وقت کوئی ڈاکخانہ میں جاوے چنانچہ ایک آریہ ملا وامل نامی اُس وقت ڈاکخانہ میں گیا اور یہ خبر لایا کہ ہوتی مردان سے دس روپیہ