براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 551 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 551

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۹ براہین احمدیہ حصہ دست بازی کی بہت گنجائش رہتی ہے اور ان کے پوشیدہ بھیدوں پر اطلاع (۴۲۰) پانے کا کم موقع ملتا ہے ۔ علاوہ اس کے عوام بیچارے علوم طبعی وغیرہ فنونِ فلاسفہ کہ ان میں اور خدا میں کوئی حجاب باقی نہیں رہتا اور بالکل رحمت الہی کے محاذی آپڑتے (۴۶۰ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ہیں ۔ اس جہت سے انوار فیضان الہی کے ان پر وارد ہوتے ہیں ۔ دوسری قسم وہ لوگ ہیں که جو دیده و دانستہ مخالفت کا طریق اختیار کر لیتے ہیں اور دشمنوں کی طرح خدا سے مونہہ نا چیز وہم ہے کہ جو ان لوگوں کے دلوں کو پکڑتا ہے کہ جو اسلام کی اصل حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اگر نبیوں کے تابعین کو ان کے کمالات اور علوم اور معارف میں علی وجہ التبعیت شرکت نہ ہو تو باب وراثت کا بکلی مسدود ہو جاتا ہے یا بہت ہی تنگ اور منقبض رہ جاتا ہے کیونکہ یہ معنے بکتی منافی وراثت ہے کہ جو کچھ فیوض حضرت مبدو فیاض سے اس کے رسولوں اور نبیوں کو ملتے ہیں اور (۲۵۹) جس نورانیت یقین اور معرفت تک ان مقدسوں کو پہنچایا جاتا ہے اس شربت سے ان کے تابعین کے حلق محض نا آشنار ہیں اور صرف خشک اور ظاہری باتوں سے ہی ان کے آنسو پونچھے جائیں۔ ایسی تجویز سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ حضرت فیاض مطلق کی ذات میں بھی ایک قسم کا بخجل ہو اور نیز اس سے کلام الہی اور رسول مقبول کی عظمت اور بزرگی کی کسرشان لازم آتی ہے کیونکہ کلام الہی کی اعلی تاثیر میں اور نبی معصوم کی قوت قدسیہ کے کمالات اسی میں ہیں کہ انوار دائمہ کلام الہی کے ہمیشہ قلوب صافیہ اور مستعدہ کو روشن کرتے رہیں نہ یہ کہ تاثیر ان کی بکلی معطل ہو یا صرف معدودے چند تک ہو کر پھر ہمیشہ کے لئے باطل ہو جائے اور زائل القوت دوا کی طرح فقط نام ہی تاثیر کا باقی رہ جائے ماسوا اس کے جبکہ ایک حقیقت واقعی طور پر ہر عہد اور ہر زمانہ میں خارج میں متحقق الوجود چلی آئی ہے اور اب بھی متحقق الوجود ہے اور شہادات متکاثرہ سے اس کا ثبوت ید یہی طور پرپل سکتا ہے تو پھر ایسی روشن صداقت سے کیونکر کوئی منصف انکار کر سکتا ہے اور ایسی کھلا کھلی سچائی کیونکر اور کہاں چھپ سکتی ہے حالانکہ قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ جب تک درخت قائم ہو اس کو پھل بھی لگتے رہیں۔ ہاں جو درخت خشک ہو جائے یا جڑ سے کاٹا جائے اس کے پھلوں کی توقع