براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 550
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم (۲۵۹) پہنچ جائیں اور ایسے تماشوں کے دکھلانے کا عرصہ بھی نہایت ہی تھوڑا ہوتا ہے جس میں غور اور فکر کرنے کے لئے کافی فرصت نہیں مل سکتی اس لئے مکاروں کے لئے بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ پس خدا بھی ان کا طالب ہو جاتا ہے اور رحمت اور انعام کے ساتھ ان پر رجوع کرتا ہے ۔ اس حالت کا نام انعام الہی ہے۔ اسی کی طرف آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا اور ۔ کا کیا۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ۔ یعنی وہ لوگ ایسا صفا اور سیدھا راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے فیضانِ رحمت الہی کے مستحق ٹھہر جاتے ہیں اور بباعث اس کے اسی میں پاتے ہیں کہ مولی حقیقی کی وفا اور محبت اور رضا سے دل بھرا ر ہے اور اسی کے ذوق اور شوق ۴۵۸ اور انس سے اوقات معمور رہیں۔ اس دولت سے بیزار ہیں کہ جو اُس کی خلاف مرضی ہے اور اس عزت پر خاک ڈالتے ہیں جس میں مولیٰ کریم کی ارادت نہیں ۔ اور ایسا ہی وہ نور کبھی فراست کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی قوت نظریہ کی بلند پروازی میں اور کبھی قوت عملیہ کی حیرت انگیز کارگزاری میں کبھی حلم اور رفق کے لباس میں اور کبھی درشتی اور غیرت کے لباس میں کبھی سخاوت اور ایثار کے لباس میں کبھی شجاعت اور استقامت کے لباس میں کبھی کسی خلق کے لباس میں اور کبھی کسی خلق کے لباس میں۔ اور کبھی مخاطبات حضرت احدیت کے پیرایہ میں اور کبھی کشوف صادقہ اور اعلامات واضحہ کے رنگ میں یعنی جیسا موقعہ پیش آتا ہے اس موقعہ کے مناسب حال وہ نور حضرت واہب الخیر کی طرف سے جوش مارتا ہے۔ نور ایک ہی ہے اور یہ تمام اس کی شاخیں ہیں۔ جو شخص فقط ایک شاخ کو دیکھتا ہے اور صرف ایک ٹہنی پر نظر رکھتا ہے اس کی نظر محدود رہتی ہے۔ اس لئے بسا اوقات وہ دھوکا کھا لیتا ہے لیکن جو شخص یکجائی نگاہ سے اس شجرہ طیبہ کی تمام شاخوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان کے انواع اقسام کے پھلوں اور شگوفوں کی کیفیت معلوم کرتا ہے وہ روز روشن کی طرح اُن نوروں کو دیکھ لیتا ہے اور نورانی جلال کی کھینچی ہوئی تلوار میں اس کے تمام گھمنڈوں کو توڑ ڈالتی ہیں۔ شاید اس جگہ بعض طبائع پر یہ اشکال پیش آوے کہ کیونکر ان کمالات کو وہ لوگ بھی پالیتے ہیں کہ جو نہ نبی ہیں اور نہ رسول لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں یہ اشکال ایک