براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 552
روحانی خزائن جلد ۱ ۵۵۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیه در حاشیه (۲۲۱) سے کچھ خبر نہیں رکھتے اور جو کائنات میں حکیم مطلق نے طرح طرح کے عجیب خواص رکھے ہیں اُن خواص کی انہیں کچھ بھی خبر نہیں ہوتی ۔ پس وہ ہر یک وقت پھیر لیتے ہیں سوخدا بھی ان سے منہ پھیر لیتا ہے اور رحمت کے ساتھ ان پر رجوع نہیں کرتا اس کا باعث یہی ہوتا ہے کہ وہ عداوت اور بیزاری اور غضب اور غیظ اور نا رضا مندی جو خدا کی نسبت ان کے دلوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے وہی ان میں اور خدا میں حجاب ہو جاتی ہے رکھنا محض نادانی ہے پس جس حالت میں فرقان مجید وہ عظیم الشان سبز و شاداب درخت ہے جس کی جڑھیں زمین کے نیچے تک اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں تو پھر ایسے شجرہ طیبہ کے پھلوں سے ر کیونکر انکار ہوسکتا ہے۔ اس کے پھل بدیہی الظہور ہیں جن کو ہمیشہ لوگ کھاتے رہے ہیں اور اب بھی کھاتے ہیں اور آئندہ بھی کھائیں گے اور یہ بات بعض نادانوں کی بالکل بے ہودہ اور غلط ہے کہ اس زمانہ میں کسی کو ان پھلوں تک گزرہی نہیں بلکہ ان کا کھانا پہلے لوگوں کے ہی حصہ میں تھا اور وہی خوش نصیب لوگ تھے جنہوں نے وہ پھل کھائے اور ان سے متمتع ہوئے اور ان کے بعد بد نصیب لوگ پیدا ہوئے جن کو مالک نے باغ کے اندر آنے سے روک دیا۔ خدا کسی ذی استعداد کی استعداد کو ضائع نہیں کرتا اور کسی بچے طالب پر اس کے فیض کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ اور اگر کسی کے خیال باطل میں یہ سمایا ہوا ہے کہ کسی وقت کسی زمانہ میں فیوض الہی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ذی استعداد لوگوں کی کوششیں اور محنتیں ضائع جاتی ہیں تو اس نے اب تک خدائے تعالیٰ کا قدر شناخت نہیں کیا اور ایسا آدمی انہیں لوگوں میں داخل ہے جن کی نسبت خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ ا لیکن اگر یہ عذر پیش کیا جائے کہ جن علوم و معارف و کشوف صادقہ و مخاطبات حضرت احدیت کے تحقق وجود کا ذکر کیا جاتا ہے وہ اب کہاں ہیں اور کیونکر بہ پایہ ثبوت پہنچ سکتے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب امور اسی کتاب میں ثابت کئے گئے ہیں اور طالب حق کے لئے ان کے امتحان کا نہایت سیدھا اور آسان راستہ کھلا ہے کیونکہ وہ علوم ومعارف کو خود اس کتاب میں دیکھ سکتا ہے اور جو کشوف صادقہ اور اخبار غیبیہ اور دوسرے خوارق ہیں ۔ الانعام: ۹۲