براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 549

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۷ براہین احمدیہ حصہ اُن کی کارسازیوں پر دلیر کرتا ہے ۔ عوام الناس کو جو اکثر چارپایوں کی طرح ہوتے ﴿۴۵۸ ہیں اس طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ لمبی چوڑی تفتیش کریں اور بات کی تہہ تک تیری تائید سے محروم رہ کر گمراہ رہے۔ یہ تین صداقتیں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے کہ بنی آدم (۴۵۸ ، در حاشیه نمبر اپنے اقوال اور افعال اور اعمال اور نیات کے رو سے تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ بعض بچے دل سے خدا کے طالب ہوتے ہیں اور صدق اور عاجزی سے خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ کے سبب سے طالب صادق بدیہی طور پر ان کو شناخت کر سکتا ہے اور حقیقت میں وہی ایک نور ہے جو (۴۵۷) ان کے ہر یک قول اور فعل اور حال اور قال اور عقل اور فہم اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جاتا ہے اور صد ہا شاخیں اس کی نمودار ہو جاتی ہیں اور رنگارنگ کی صورتوں میں جلوہ فرماتا ہے وہی نور شدائد اور مصائب کے وقتوں میں صبر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور استقامت اور رضا کے پیرا یہ میں اپنا چہرہ دکھاتا ہے تب یہ لوگ جو اس نور کے مورد ہیں آفات عظیمہ کے مقابلہ پر جبال راسیات کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور جن صدمات کی ادنی مس سے نا آشنا لوگ روتے اور چلاتے ہیں بلکہ قریب بمرگ ہو جاتے ہیں ان صدمات کے سخت زور آور حملوں کو یہ لوگ کچھ چیز نہیں سمجھتے اور فی الفور حمایت الہی کنار عاطفت میں ان کو بھینچ لیتی ہے اور کوئی خامی اور بے صبری ان سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ محبوب حقیقی کے ایلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں اور کشادگی سینہ وانشراح خاطر اس کو قبول کرتے ہیں بلکہ اس سے مسلہ ذ ہوتے ہیں کیونکہ طاقتوں اور قوتوں اور صبروں کے پہاڑ ان کی طرف رواں کئے جاتے ہیں اور محبت الہیہ کی پر جوش موجیں غیر کی یادداشت سے ان کو روک لیتی ہیں پس ان سے ایک ایسی برداشت ظہور میں آتی ہے کہ جو خارق عادت ہے اور جو کسی بشر سے بلاتا ئید الہی ممکن نہیں ۔ اور ایسا ہی وہ نور حاجات کے وقتوں میں قناعت کی صورت میں ان پر جلوہ گر ہوتا ہے سو دنیا کی خواہشوں سے ایک عجیب طور کی برودت ان کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے کہ بد بودار چیز کی طرح دنیا کو سمجھتے ہیں اور یہی دنیوی لذات جن کے حظوظ پر دنیا دار لوگ فریفتہ ہیں و بشوق تمام ان کے جو یاں اور ان کے زوال سے سخت ہراساں ہیں یہ اُن کی نظر میں بغایت درجہ نا چیز ہو جاتے ہیں اور تمام سرور اپنا