براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 548 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 548

روحانی خزائن جلد ۱ ۵۴۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۲۵۷ چشم دید باتوں کا ایک ذخیرہ رکھتا ہے اور خود اس قسم کے مکر جیسے سادہ لوحوں اور جاہلوں کے سامنے چل جاتے ہیں اور زیر پردہ رہتے ہیں یہ ایک ایسا امر ہے جو مکاروں کو (۲۵۷) صِرَاطَ الَّذِينَ الْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم کو ان سالکین کا راستہ اتلا جنہوں نے ایسی راہیں اختیار کیں کہ جن سے اُن پر تیرا انعام وارد ہوا اور ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے لا پرواہی سے سیدھی راہ پر قدم مارنے کے لئے کوشش نہ کی اور اس باعث سے پیش از وقوع ان کو بتلا دیتا ہے تا جس کام کا اس نے ارادہ کیا ہے بوجہ احسن انجام کو پہنچ جائے مثلاً وہ خلق اللہ پر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ فلاں بندہ موید من اللہ ہے اور جو کچھ انعامات اور اکرامات وہ پاتا ہے وہ معمولی اور اتفاقی طور پر نہیں بلکہ خاص ارادہ و توجہ الہی سے ظہور میں آتے ہیں۔ اسی طرح جو کچھ فتح و نصرت اور اقبال و عزت اس کو ملتی ہے وہ کسی تدبیر اور حیلہ کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خدا ہی نے چاہا ہے کہ اس کو غلبہ بخشے اور اپنی تائیدات اس کے شامل حال کرے پس وہ کریم اور رحیم اس مقصود کے ثابت کرنے کی غرض سے ان انعامات اور فتوح سے پہلے بطور پیشگوئی ان نعمتوں کے عطا کرنے کی بشارت دے دیتا ہے سو ان پیشگوئیوں سے مقصود بالذات اخبار غیبیہ نہیں ہوتیں بلکہ مقصود بالذات یہ ہوتا ہے کہ تا یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہو جائے کہ وہ شخص مؤید من اللہ اور ان خاص لوگوں میں سے ہے جن کی تائید کے لئے عنایات حضرت عزت خاص طور پر جلی کرتی ہیں۔ اب اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اس مؤید من اللہ کو منجم وغیرہ سے کچھ بھی نسبت نہیں اور اس کی پیشگوئیاں اصل مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصود کی شناخت کے لئے علامات و آثار ہیں۔ ماسوا اس کے جن لوگوں کو خدائے تعالیٰ خاص اپنے لئے چن لیتا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنے گروہ میں داخل کرتا ہے ان میں صرف یہی علامت نہیں کہ وہ پوشیدہ چیزیں بتلاتے ہیں تا ان کا حال نجومیوں اور جوتشیوں اور رمالوں اور کاہنوں کے حال سے مشتبہ ہو جائے اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے بلکہ ان کے شامل حال ایک عظیم الشان نور ہوتا ہے جس کے مشاہدہ