براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 453
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۱ براہین احمدیہ حصہ چہارم ہندوؤں کے باپ دادوں پر نازل ہوا ہے ۔ اور دوسری زبانیں دوسرے لوگوں کے باپ دادوں نے بوجہ اس کے کہ وہ ہندوؤں کے باپ دادوں سے زیادہ زیرک اور دانا تھے، آپ بنالی ہیں ۔ مگر کیا ہم یہ بھی فرض کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ ہندوؤں ہو جاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔ اس فیضان کے رو سے خدائے تعالی کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط به شرائط ہونے کے مرتبہ صفت رحمانیت سے موخر ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے اول صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔ پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی پس اسی ترتیب طبیعی کے لحاظ سے سورۃ فاتحہ میں صفت رحیمیت کو صفت رحمانیت کے بعد میں ذکر فر مایا اور کہا الرحمن الرحیم اور صفت رحیمیت کے بیان میں کئی مقامات پر قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔ جیسا ایک جگہ فرمایا ہے وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔ اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ کان بالمؤمنين رحمانا بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔ پھر دوسری جگہ فرمایا ہے۔ اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ " یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے۔ ان الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أوليكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ سے یعنی جو لوگ ایمان لائے اور بقيه حاشیه در حاشیه نمبر اور بلاغت کو حریری اور فیضی وغیرہ انشاء پردازوں کی طرح فضول بیان کے پیرا یہ میں ادا نہیں کیا اور نہ کسی قسم کے لغو اور ہنرل یا کذب کو اس پاک کلام میں دخل ہے بلکہ فرقان مجید نے اپنی فصاحت اور بلاغت کو صداقت اور حکمت اور ضرورت حقہ کے الاحزاب: ۴۴ الاعراف: ۵۷ البقرة : ٢١٩