براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 454
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۳۷۸ کے پرمیشر سے بھی کچھ بڑھ کر تھے جن کی قدرت کاملہ نے صد ہا عمدہ زبانیں بنا کر دکھلا دیں اور پر میشر صرف ایک ہی بولی بنا کر رہ گیا ۔ جن لوگوں کی تارو پود میں شرک ا ہوا ہے انہوں نے اپنے پر میشر کو بہت سی باتوں میں ایک برابر درجہ کا شخص خدا کے لئے وطنوں سے بانفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی ، وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور ان لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔ کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔ ۳۷۸ ۳۷۸ } عاشق که شد که یار بحالش نظر نہ کرو اے خواجہ درد نیست وگر نه طبیب ہست چوتھا تم فیضان کا فیضان اخص ہے۔ یہ وہ فیضان ہے کہ جو صرف محنت اور سعی پر مترتب نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے ظہور اور بروز کے لئے اول شرط یہ ہے کہ یہ عالم اسباب کہ جو ایک تنگ و تاریک جگہ ہے۔ بکلی معدوم اور منعدم ہو جائے اور قدرت کاملہ حضرت احدیت کے بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے برہنہ طور پر اپنا کامل چمکا را دکھلاوے کیونکہ اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عند العقل زیادتی اور کمالیت متصور ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف طور پر ہو اور کوئی اشتباہ اور خفا اور نقص باقی نہ رہے۔ یعنی نہ مفیض کے بالا رادہ فیضان میں کوئی شبہ رہ جائے۔ اور نہ فیضان کے حقیقی فیضان اور رحمت خالصہ اور کاملہ ہونے میں کچھ جائے کلام ہو بلکہ جس مالک قدیم کی طرف سے فیض ہوا ہے اس کی فیاضی اور جزا دہی روز روشن کی طرح کھل جائے اور شخص فیض یاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک المک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمی اور لذت کبری اس کو عطا کر رہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی التزام سے ادا کیا ہے اور کمال ایجاز سے تمام دینی صداقتوں پر احاطہ کر کے دکھایا ہے۔ چنانچہ اس میں ہر یک مخالف اور منکر کے ساکت کرنے کے لئے براہین ساطعہ بھری پڑی ہیں ۔ اور مومنین کی تکمیل یقین کے لئے ہزار ہا دقائق حقائق کا ایک دریائے عمیق و