براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 452
روحانی خزائن جلد ۱ ۴۵۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم کیونکر پر میشر کی کلام کو انسان کے مصنوع پر ضرور فضیلت ہونی چاہئے ۔ کیونکہ وہ اُسی سے خدا کہلاتا ہے کہ اپنی ذات میں ، اپنی صفات میں ، اپنے کاموں میں سب سے (۳۷۷) افضل اور بے مثل و مانند ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ سنسکرت پر میشر کا کلام ہے جو ان کو گر نے سے تھام رکھتا ہے یعنی فیضان رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہو رہا ہے کہ ۳۷۷ بقیه حاشیه در حاشیه نمبر پرندے بھی جو ایک پیسہ کے دو تین مل سکتے ہیں وہ بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر رہے ہیں ۔ اور چونکہ ربوبیت کے بعد اسی فیضان کا مرتبہ ہے۔ اس جہت سے اللہ تعالی نے سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کی صفت بیان فرما کر پھر اس کے رحمان ہونے کی صفت بیان فرمائی تا ترتیب طبعی ان کی ملحوظ رہے۔ تیسری قسم فیضان کی فیضان خاص ہے اس میں اور فیضان عام میں یہ فرق ہے کہ فیضان عام میں مستفیض پر لازم نہیں کہ حصول فیض کے لئے اپنی حالت کو نیک بناوے اور اپنے نفس کو حجب ظلمانیہ سے باہر نکالے یا کسی قسم کا مجاہدہ اور کوشش کرے بلکہ اس فیضان میں جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر یک ذی روح کو اس کی ضروریات جن کا وہ حسب فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیا کر دیتا ہے۔ لیکن فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیہ قلب اور دعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقع ہو شرط ہے اور اس فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے اور اس پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے اور اس فیضان کا وجود بھی ملاحظہ قانون قدرت سے ثابت ہے کیونکہ یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ خدا کی راہ میں سعی کرنے والے اور غافل رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔ بلا شبہ جو لوگ دل کی سچائی سے خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں اور ہر یک تاریکی اور فساد سے کنارہ کش قرآن شریف کی فصاحت بلاغت جن لوازم اور خصائص سے مخصوص ہے وہ ایک ایسا امر ہے جس کو دانشمند انسان سوچتے ہی یہ یقین دل سمجھ سکتا ہے کہ وہ پاک کلام انسانی طاقتوں کے احاطہ سے خارج ہے کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ قرآن شریف نے اپنی فصاحت