براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 389
روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۷ براہین احمدیہ حصہ چہارم زمین آسمان اور سورج و چاند وغیرہ اجرام پر نظر ڈال کر دیکھو کہ کیونکر اتنا بڑا کام ۳۳۱ ہوتا ہے یا خداوند کریم و رحیم نے میرے لئے کوئی اور بھی راہ رکھا ہے۔ کیا اس نے میری تحمیل معرفت کے لئے کوئی اور راہ نہیں رکھا۔ اور مجھ کو صرف میرے ہی خیالات پر چھوڑ دیا ہے۔ کیا اس نے اس قدر مہربانی کرنے سے دریغ کیا ہے کہ جس جگہ میں اپنے کمزور پاؤں سے پہنچ نہیں سکتا اس جگہ وہ اب اپنی ربانی قوت سے مجھ کو پہنچا دے۔ اور جن بار یک چیزوں کو میں اپنی ضعیف آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ وہ مجھ کو اپنی عمیق نگاہ کی مدد سے آپ دکھا دے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ میرے دل کو ایک دریا کی پیاس لگا کر پھر مجھے کو ایک نا چیز قطرہ پر جو قلت معرفت کی بد بو سے بھرا ہوا ہے روک رکھے ۔ کیا اس کے خود اور بخشش اور رحمت اور قدرت کا یہی تقاضا ہے؟ کیا اُس کی قادریت یہیں تک ہے کہ جو کچھ عاجز بندہ اپنے طور پر ہاتھ پاؤں مار کر خدا کے وجود کی نسبت کوئی ڈھکونسلہ اپنے دل میں قائم کرے اس پر اس کی معرفت کو ختم کر دے اور اپنی الوہیت کی خاص قوتوں سے اس کو معرفت حقانی کے عالم کا سیر نہ کرادے۔ تو جب طالب حق ایسے سوالات اپنے دل سے کرے گا تو ضرور وہ اپنے دل سے یہی محکم جواب پاوے گا کہ بلا شبہ خدائے تعالیٰ کی بے انتہا بخشائشوں کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ وہ اپنے عاجز بندہ کی آپ دستگیری کرے ۔ گم گشتہ کو آپ راہ دکھا دے۔ کمزور کا آپ ہاتھ پکڑے۔ کیا ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ قادر ہوکر توانا ہوکر ، رحیم ہوکر ، کریم ہوکر جی ہوکر، قیوم ہو کر اپنی طرف سے ہمیشہ خاموشی اختیار کرے۔ اور بندہ جاہل اور نابینا اس کی جستجو میں آپ ٹکریں مارتا پھرے۔ ناتوانان را کجا تاب و توان تا نشان یابند خود زان بے نشان عقل کوران رہنما جوید براہ رهبری از دانش کوران مخواه عقل ما از بهر زاری و بکاست دفع آزار جهالت از خداست عقل طفل است این که گرید زار زار شیر جز مادر نیاید زینهار سواے ناظرین!! اس مضمون میں انصاف سے نظر کرو اور غور اور تعمیق سے سوچو۔