براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 390

روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۸ براہین احمدیہ حصہ چہارم بغیر مدد اسباب اور معماروں اور مزدوروں کے محض ارادہ سے بہ مجرد حکم کے انجام ہوشیار رہو اور کسی دھوکا دہندہ کے دھوکا میں مت آؤ ۔ اپنے دلوں سے آپ ہی پوچھ لو کہ تمہارے دل کس قدر یقین کے خواہش مند ہیں ۔ کیا فقط تمہارے اپنے ہی افسردہ خیال تمہارے دلوں کو پوری پوری تسلی دے سکتے ہیں ۔ کیا تمہارے روح اس بات کے خواہاں نہیں ہیں کہ تم اس دنیا میں کامل یقین تک پہنچ جاؤ اور نا بینائی سے خلاصی پاؤ ۔ تم سچ سچ کہو کیا تمہیں اس بات کی طلب نہیں کہ تمہاری ظلمت اور حیرت دور ہو۔ اور وہ شبہات جو تمہارے دلوں میں مخفی ہیں جن کو تم ظاہر بھی نہیں کر سکتے ، دور ہو جائیں۔ پس اگر الہی معرفت کا کچھ جوش ہے تو یقینا سمجھو کہ اس دنیا میں خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ اس نے ہر یک چیز کے دریافت کرنے کے لئے یا حاصل کرنے کے لئے کسی نہ کسی چیز کو آلہ ٹھہرا دیا ہے ۔ اور عقل کا صرف یہی کام ہے کہ اس آلہ کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے۔ لیکن آپ اس آلہ کا کام نہیں دے سکتی ۔ مثلاً آٹا پینے کے لئے چکی کی ضرورت کو عقل ثابت کرتی ہے۔ مگر یہ بات نہیں کہ عقل آپ ہی چکی بن جاوے اور آٹا پینے لگے۔ اسی طرح آج تک صد با آلات کی عقل نے رہبری کی ہے لیکن کام وہی انجام کو پہنچا ہے جس کو آلہ نے انجام دیا۔ ہے۔ اور جس کام کا آلہ میسر نہیں آیا۔ وہاں عقل حیران رہی ہے ۔ پس دنیا کے تمام کا روبار پر نظر ڈال کر دیکھ لو کہ غایت درجہ کی سعی عقل کی یہی ہے کہ اس کو کسی کام کے انجام دینے کے لئے کسی آلہ کا خیال دل میں پیدا ہو جائے ۔ مثلا عقل نے یہ سوچا کہ عبور دریا کے لئے کوئی آلہ چاہئے تو کشتی کی صورت دل میں جم گئی اور پھر کشتی بنانے کا ایک مادہ میسر آ گیا جو دریا پر چلتا ہے اور ڈوبتا نہیں، سو اس مادہ کے میسر آنے سے کشتی بن گئی۔ علی ھذا القیاس ہزار ہا اور آلات ہیں جن سے دنیا کا دھندا چلتا ہے اور ہر جگہ معقل کا صرف اتنا منصب ہے کہ وہ آلہ کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے اور یہ بیان کر دیتی ہے کہ اس قسم کا آلہ ہونا چاہئے ۔ یہ نہیں کہ وہ آپ آلہ مطلوبہ کا کام دے سکتی ہے۔ اب سمجھنا چاہئے کہ عقل سلیم اس بات کو بہ بداہت سمجھتی ہے کہ