براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 388
۳۲۵ روحانی خزائن جلد ۱ ۳۸۶ براہین احمدیہ حصہ چہارم خدا نے پیدا کیا وہ ایسی اعلیٰ قدرت سے کیا جس میں عقل انسان حیران ہے۔ حصہ سوم کے صفحہ ۲۱۲ سے ۲۱۵ تک پھر دیکھیں تا انہیں کلام الہی اور خیالات انسانی میں فرق معلوم ہو۔ اور جو پنڈت صاحب بار بار عقل پر ناز کرتے ہیں یہ ناز ان کا بھی سراسر بے جا ہے۔ ہم نے اسی حصہ سوم میں یہ تفصیل لکھ دیا ہے کہ مصنوعات صانع کے وجود کو بہ حیثیت موجودیت ہرگز ثابت نہیں کرتیں بلکہ اس کے وجود کی ضرورت کو ثابت کرتی ہیں اور وہ بھی بطور ظنتی۔ لیکن خدا کا کلام اس کی موجودیت کو قطعی اور یقینی طور پر ثابت کرتا ہے نہ یہ کہ صرف اس کی ضرورت کو ثابت کرے۔ اسی طرح مصنوعات کے ملاحظہ سے خدا کا از لی اور قدیم ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ کیونکہ مصنوعات خود از لی اور قدیم نہیں ۔ پھر دوسرے کا ازلی ہونا کیونکر ثابت کرسکیں ۔ حادث جو اپنی ذات میں نو پیدا اور مستحدث ہے خدا تعالی کے وجود کی ضرورت کو صرف اسی حد تک ثابت کرے گا جس حد تک حادث کی انتہا ہے ۔ یعنے جو اس کے ظہور اور حدوث کی حد ہے۔ اور پھر بعد اس کے بذریعہ حادث ثابت نہیں ہوتا کہ وجود کائنات سے پہلے خدائے تعالیٰ از لی طور پر ہمیشہ موجود تھا یا نہیں ۔ پس جو علم وجود باری بذر بعید و جو د حا دثات حاصل کیا جاتا ہے۔ نہایت ہی تنگ اور منقبض اور ناقص علم ہے جو انسان کوشکوک اور شبہات کے ورطہ سے ہرگز نہیں نکالتا اور جہل کی تاریکی اور ظلمت سے باہر نہیں لا تا ۔ بلکہ طرح طرح کے ترودات میں ڈالتا ہے۔ اسی وجہ سے جن لوگوں کی معرفت کا مدار صرف عقلی علم پر تھا ان کا خاتمہ اچھا نہیں ہوا اور اپنے عقائد میں بہت سی تاریکی اور ظلمات کو ساتھ لے گئے ۔ انسان اگر تعصب اور ضد سے بکلی الگ ہو کر اور اپنے تئیں ایک سچا طالب حق بنا کر اور فی الحقیقت معرفت الہی کا بھوکا اور پیاسا بن کر اپنے دل میں آپ ہی سوچے کہ مجھ کو خدا کی ہستی اور اس کی قادریت اور تمام صفات کا ملہ پر یقین حاصل کرنے کے لئے اور عالم معاد اور معاملہ جزا سزا کو بطور علم قطعی و ضروری جاننے کے لئے کیا کیا ذخیرہ معرفت درکار ہے۔ کیا میں اپنی خوشحالی دائگی کو صرف اسی مرتبہ علم سے حاصل کر سکتا ہوں کہ جو ظنی طور پر بذریعہ عقل حاصل